خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 407
407 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 اگست 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم ایک تو اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں سامان بہم پہنچائے پھر ہماری محنت یا کوشش جو بھی ہم نے کی اور جس حد تک کی اس کو نوازتے ہوئے ہماری دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے اس کے پھل عطا فرمائے اور پھر صرف یہی نہیں کہ اس حد تک انعامات اور فضلوں سے نوازا جس قدر ہماری محنت اور دعا تھی بلکہ جہاں جہاں ہماری کوششوں میں کمیاں رہ گئیں ، ہماری دعاؤں میں کمی رہ گئی ، اس کی اصلاح کرتے ہوئے اس کے بہترین اور خوبصورت اور احسن ترین نتائج بھی پیدا فرمائے۔پس اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری معمولی انسانوں کی شکر گزاری کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کی حمد کرتے ہوئے کہ ہماری پردہ پوشی فرمائی ہے کمیوں کو دور کیا اور نہ صرف یہ کہ پردہ پوشی فرمائی بلکہ خود ہی ان کی اصلاح کرتے ہوئے ان کوششوں کے معیار بھی بہتر کر دیئے اور اتنے بہتر کر دیئے کہ انسانی کوششوں سے وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے۔پس جب ہم اس سوچ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کریں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو خوشخبری دیتا ہے کہ تم میری حمد اور شکر گزاری کی گہرائی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ، میرے شکر گزار بنتے ہوئے، جو اچھے نتائج تم نے حاصل کئے ہیں انہیں میری طرف منسوب کرتے ہوئے جب اپنی سوچوں کے دائرے اس طرح چلاتے ہو تو پھر ایسے لوگوں کو میں نوازتا ہوں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی حمد کا مضمون اللہ تعالیٰ کی قدرتوں، طاقتوں اور تمام صفات کا ادراک پیدا کرنے والا ہے جسے ہمیں سمجھنے کی اور ہر وقت سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے بعد، اس کی حمد کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک دوسرے کا شکر گزار بننے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور یہ شکر گزاری بندوں کا حق ہے۔ہر شخص جس نے ہمارے لئے کچھ بھی کیا ہو اس کا حق ہے کہ ہم اس کے شکر گزار بنیں اور یہی عبادالرحمن کا شیوہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ فرمایا ہے کہ بغیر حقوق العباد کی ادائیگی کے ، حقوق اللہ کی ادائیگی کا بھی حق ادا نہیں ہو سکتا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 216) آنحضرت صلی اللہ تم جو شکر اور احسان کے بدلے اتارنے کے اعلیٰ مقام پر پہنچے ہوئے تھے۔جہاں تک کوئی انسان پہنچ نہیں سکتا، آپ فرماتے ہیں کہ ”جو انسانوں کا شکر ادا نہیں کر تا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا“۔(سنن الترمذی۔کتاب البر والصلۃ باب ماجاء فی الشكر لمن احسن الیک۔حدیث نمبر 1954) آپ صلی اللہ تم تو جو کوئی معمولی سا بھی کام آپ کا کرتا تھا آپ کی خدمت کرتا تھا، بے انتہا شکر ادا کیا کرتے تھے۔یہ آپ کا جذ بہ شکر گزاری ہی تھا جس کے تحت آپ نے انصار مدینہ کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے فتح مکہ کے بعد بھی مدینہ میں رہنے کا فیصلہ فرمایا اور مدینہ کو اپنا وطن ثانی قرار دیا اور روز مرہ کی زندگی میں آپ کے ان گنت واقعات ہیں جو آپ کی شکر گزاری کے جذبات کے تحت دوسروں کو نوازتے ہوئے ہمیں نظر آتے ہیں۔پس یہ شکر گزاری کے جذبات کا اظہار بھی آپ صلی علیہ سلم کا ایک عظیم اُسوہ ہے۔اس کی ایک حقیقی مومن کو پیروی کرنی بہت