خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 380 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 380

خطبات مسرور جلد ہشتم 380 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 پھر کہتے ہیں کہ ایک دن حضور دن کے دس بجے آئے گھڑی کا ٹائم ٹھیک کرنے کے واسطے۔گھڑی رومال میں بندھی ہوئی تھی۔نکال کر وقت ٹھیک کیا پھر اوپر چلے گئے۔کہتے ہیں ایک دفعہ پھر میں قادیان آیا، حضور کو ایک آدمی خط سنار ہا تھا۔سیالکوٹ سے کسی احمدی کی طرف سے آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ حضور میرے گڑم ( سمدھی جو ہوتے ہیں، بیٹی یا بیٹے کے سسرال والے) کہتے ہیں کہ بارات کے ساتھ باجا بھی لاؤ اور آتشبازی بھی لاؤ۔حضور نے فرمایا کہ باجا تو بطور اعلان کے ہے اس کا تو کوئی گناہ نہیں۔اور آتش بازی ایک مکر وہ چیز ہے۔اس واسطے حضور نے فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ با جاہم لے آئیں گے اور آتش بازی کے خیال کو آپ چھوڑ دیں۔پھر ایک دفعہ بابو محمد رشید کا کچھ مدت بعد احمدیت کی طرف رجحان ہو گیا۔کچھ میرے ساتھ تبادلہ خیالات ہوا۔اس کے بعد چار آدمی میرے ساتھ بیعت کے واسطے قادیان آنے کو تیار ہو گئے۔بابو محمد رشید ، مولوی محبوب عالم اور مستری علم دین، چوتھے کا مجھے نام یاد نہیں۔میں نے ان چاروں شخصوں کو قادیان لا کر بیعت کروادی۔ایک اور عجیب واقعہ انہوں نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ جب آیا تو کھڑکی کے راستے حضور جب مسجد میں تشریف لائے تو لوگ استقبال کے واسطے اٹھے۔تو ایک پٹھان تھا جو درد نقرس سے بیمار تھا اور دوسوٹوں سے چلتا تھا۔اس کے کھڑا ہونے میں کچھ دیر ہو گئی تو حضور جب باہر نکلے تو حضور کا پاؤں اس کے پاؤں پر آیا۔تو اس طرف کی اس کی تمام در دیں اچھی ہو گئیں۔کچھ دیر کے بعد جب حضور اندر جانے لگے تو اس نے کہا کہ حضور اس پاؤں پر بھی پاؤں رکھ دیں تو حضور اس کے پاؤں پر پاؤں رکھ کر چلے گئے۔بعد میں اس نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ سے قریباً چھ ماہ ہو گئے علاج کروا رہا ہوں کچھ اچھی طرح سے آرام نہیں آیا تھا۔آج یہ واقعہ ہوا ہے کہ جب حضور براستہ کھڑ کی مسجد میں تشریف لائے تو میرے پاؤں پر پاؤں آگیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس طرف کی تمام در دیں دور ہو گئی ہیں۔خلیفہ اول نے جو ابا فرمایا کہ بھائی وہ تو خدا تعالیٰ کے رسول ہیں۔میں تو معمولی حکیم ہوں۔میں نے دوا دار وہی دینا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو کوئی کسی ضروری حاجت کے واسطے اندر تشریف لے گئے تو پاس ہی حضور کی صدری پڑی تھی۔اس کو اپنے کندھے پر رکھ لیا تو اندر چلے گئے۔دو تین منٹ کے بعد پھر واپس آگئے تو صدری لا کر پھر وہاں رکھ دی۔تو سید فضل شاہ صاحب کہتے ہیں کہ حضور یہاں تو کوئی اوپرا آدمی نہ بیٹھا ہوا تھا۔حضور دومنٹ کے واسطے اندر گئے ہیں اور پھر واپس آگئے ہیں تو حضور نے صدری اپنے کندھے پر رکھ لی۔حضور نے فرمایا کہ کسی کو گناہ کرنے کا موقعہ نہیں دینا چاہئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) نمبر 5 صفحہ 97 تا103) تو یہ ان لوگوں سے تو خدشہ نہیں تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک تربیت کا انداز تھا کہ بجائے اس کے کہ کسی کو موقع دو یا شکوک میں مبتلا ہو اگر کوئی چیز تمہاری ہے تو ساتھ ہی اٹھالو۔روایات کافی ہیں، وقت کم ہو رہا ہے۔آخر میں صرف ایک دو اور بیان کر دیتا ہوں۔