خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 346 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 346

346 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم صاحب و مینس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور پڑدادا حضرت کریم بخش صاحب رضی اللہ تعالی عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔انہوں نے 1900ء میں بیعت کی تھی۔قادیان کے قریب گاؤں بھینیاں کے رہنے والے تھے۔قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے شجر ضلع شیخو پورہ میں شفٹ ہو گئے۔بعد میں چک 9متابہ ضلع شیخو پورہ رہائش اختیار کر لی۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 53 سال تھی۔عرصہ 15 سال سے دارالذکر کے سکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے خدمت کر رہے تھے۔مسجد دارالذکر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔مسجد کے مین گیٹ پر ڈیوٹی پر تھے۔سانحہ کے دوران انہوں نے ایک دہشتگرد کو پکڑنے کی کوشش کی۔اس کوشش میں ان پر فائرنگ ہوئی۔دو گولیاں سینے میں لگیں جبکہ ایک برسٹ ان کے پیٹ کے نچلے حصہ اور ٹانگ پر لگا جس سے موقع پر ہی ان کی شہادت ہو گئی۔اہل خانہ نے بتایا کہ بہت ہی عمدہ شخصیت کے مالک تھے۔کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔سادہ اور صلح پسند انسان تھے۔ایک دوست نے بتایا کہ شہید مرحوم ایک روز وردی پہن کر خوب ناز سے چل رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کیوں چل رہے ہیں ؟ تو جو ابا کہا کہ جو بھی غلط ارادے سے آئے گاوہ میری لاش پر ہی سے گزر کر جائے گا۔شہید مرحوم کی خواہش تھی کہ اگر اب میری کوئی اولاد ہو تو میں اسے وقف نو میں پیش کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سنتے ہوئے بڑے بیٹے کی پیدائش کے گیارہ سال بعد بیٹا عطا کیا جو وقف نو میں ہے۔اہل خانہ بتاتے ہیں کہ جمعہ والے دن مصروفیت کی وجہ سے کبھی گھر فون نہیں کیا۔تاہم شہادت سے ہیں منٹ پہلے فون کر کے بات کی۔جب انہوں نے پوچھا کہ آج آپ نے جمعہ والے دن کیسے فون کر لیا ہے؟ تو انہوں نے کہا بس میر ادل چاہ رہا تھا لہذا پاس ہی کھڑے خادم سے فون لے کر بات کر رہا ہوں۔یہ ذکر شاید زیادہ لمبا ہو جائے اس لئے چھوڑتا ہوں۔باقی آئندہ پھر ذکر ہو جائے گا۔اس وقت ایک اور ذکر بھی کرنا چاہتا ہوں اور اُن کی نماز جنازہ غائب بھی جمعہ کے بعد ادا کروں گا۔مکرمہ سرور سلطانہ صاحبہ اہلیہ مکرم مولانا عبد المالک خان صاحب مرحوم۔22 جون 2010ء کو ستاسی سال کی عمر میں لمبی بیماری کے بعد ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مولانا ذوالفقار علی خان صاحب گوہر صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بہو تھیں۔ہمیشہ اپنے واقف زندگی خاوند کا بھر پور ساتھ دیا اور وقف کے تقاضے نبھانے کی پوری کوشش کی۔آپ کو خود بھی خدا تعالیٰ نے خدمت دین کی توفیق عطا فرمائی اور لجنہ کراچی اور لجنہ ربوہ میں 48 سال تک بطور صدر لجنہ حلقہ نمایاں کام کیا۔ایک موقع پر جب 71ء میں جنگ کے دوران جماعت نے فوجیوں کے لئے صدریاں تیار کروائیں تو آپ نے بھی اس میں حصہ لیا۔یا ہو سکتا ہے 65ء میں یہ کی ہوں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو سند خوشنودی حاصل ہوئی۔ان کی بیٹی ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ جو واقف زندگی ہیں اور فضل عمر ہسپتال میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت نمایاں خدمات سر انجام دے رہی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی عمر و صحت میں برکت دے، ان کا بیان ہے کہ 1953ء کے فسادات کے دوران ہم بند روڈ کراچی میں احمدیہ لائبریری کے عقب میں ایک ڈبل سٹوری مکان میں مقیم تھے جبکہ اوپر والی منزل پر