خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 338
خطبات مسرور جلد ہشتم 338 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم بہت کم گو اور ملنسار انسان تھے۔کبھی کسی نے بھی ان کے بارے میں شکایت نہیں کی۔نماز کے پابند تھے۔ہر جمعرات کو اپنے مسجد کے حلقہ کے وقار عمل میں حصہ لیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم لعل خان صاحب ناصر اگلا ذکر ہے مکرم لعل خان صاحب ناصر شہید ابن مکرم حاجی احمد صاحب کا۔شہید مرحوم اور حماں ضلع سر گودھا کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا نے اپنے خاندان میں سب سے پہلے بیعت کی تھی۔بچپن میں شہید مرحوم کے والد وفات پاگئے تھے۔والدہ بھی 1995ء میں وفات پا گئیں۔ابتدائی تعلیم کے بعد ربوہ آگئے تھے۔بی۔اے تک تعلیم حاصل کی جس کے بعد بسلسلہ ملازمت کچھ عرصہ کے لئے کراچی چلے گئے۔بعد میں تربیلا میں ملازمت مل گئی۔اس وقت گریڈ سترہ کے بجٹ اکاؤنٹ آفیسر تھے اور گریڈ اٹھارہ ملنے والا تھا۔دورانِ ملازمت ملتان اور وہاڑی میں بھی بھر پور جماعتی خدمات کا موقع ملا۔اس کے علاوہ مظفر گڑھ میں پہلے قائد ضلع اور پھر امیر ضلع مظفر گڑھ کی حیثیت سے بھی خدمت سر انجام دیتے رہے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 52 سال تھی اور نظام وصیت میں شامل تھے۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں شہادت کا رتبہ پایا۔مسجد بیت النور کے دوسرے ہال میں بیٹھے تھے۔دہشتگردوں کے آنے پر آپ نے بھاگ کر دروازہ بند کیا اور احباب جماعت سے کہا کہ آہستہ آہستہ ایک طرف ہو جائیں۔اسی دوران دروازے میں سے دہشتگر دنے گن کی نالی اندر کر کے فائر کئے جو آپ کے سینے میں لگے اور موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ان کی اہلیہ محترمہ نے بتایا کہ سانحہ سے ایک روز قبل شہید مرحوم غالباً کوئی خواب دیکھتے ہوئے ایک دم ہڑ بڑا کے اٹھ گئے تھے۔میں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے ؟ تو خاموش رہے۔تاہم اٹھ کر بچوں کو دیکھا لیکن خواب نہیں سنائی۔بڑے بیٹے نے بتایا کہ تدفین سے اگلے روز غیر از جماعت لڑکوں کے گالیوں بھرے ایس ایم ایس (SMS) آتے رہے۔یہ ان کی اخلاقی حالت کا حال ہے۔لڑکے نے بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کالی سکرین ہے جس پر سفید الفاظ لکھے آ رہے ہیں اور ساتھ ہی ابو شہید کی آواز آتی ہے کہ ignore کر وسب کو ، خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے قربانی دی۔شہید مرحوم کے ایک عزیز نے شہادت کے بعد خواب میں دیکھا کہ ہرے بھرے گراؤنڈ میں ٹہل رہے ہیں۔ایک ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ہے اور دوسرے ہاتھ میں سیب ہے جو کھا رہے ہیں۔بروز جمعہ شہید مرحوم نے نماز سینٹر جاکر باجماعت تہجد پڑھائی اور رو رو کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں۔پھر اس کے بعد نماز فجر پڑھائی تو آخری سجدہ بہت لمبا کیا۔اہل خانہ نے بتایا کہ وقف عارضی کا بہت شوق تھا۔وقف نو کی کلاسز بہت دلجمعی سے لیتے تھے۔فرداً فردا بچوں کو وقت دے کر جائزہ لیا کرتے تھے۔گھر میں ایک عیسائی بچی ملازمہ تھی، اس کے تعلیمی اخراجات بھی برداشت کئے۔اس کو