خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 337

خطبات مسرور جلد ہشتم 337 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 قرآن کریم کی تعلیم دی۔یہ لوگ آپ کی شہادت پر زارو قطار روتے ہوئے ملے کہ ان کا یہ احسان ہماری نسلیں کبھی نہیں بھلا سکتیں۔عزیز و اقارب اور دیگر رشتہ داروں کی ہمیشہ مشکل حالات میں مدد کی اور ان کو سپورٹ کیا۔جو بھی آپ کو پنشن ملتی تھی وہ ساری کی ساری غریبوں پر ہی خرچ کر دیتے تھے۔نماز ظہر و عصر گھر میں باجماعت ادا کرتے اور باقی تین نمازیں مسجد میں جاکر ادا کرتے تھے۔کبھی تہجد نہیں چھوڑی۔داماد اور بیٹے میں کبھی فرق نہیں کیا۔بہوؤں کو اپنی بیٹی سمجھا۔سانحہ سے ایک جمعہ قبل تین نئے سفید سوٹ سلوائے دونوں بیٹوں نے اپنے اپنے سوٹ پہن لئے۔جب شہید مرحوم کو کہا گیا کہ تیسر اسوٹ آپ پہن لیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں میں اگلے جمعہ پہنوں گا۔کچھ عرصہ قبل آپ کی بیٹی نے خواب میں دیکھا کہ کوئی تہہ خانے والی بلڈنگ ہے جس میں میڈل تقسیم کیے جارہے ہیں۔ان میں میرے والد صاحب بھی شامل ہیں۔خواب میں ہی کوئی شخص کہتا ہے کہ یہ میڈل ان کو دیئے جار ہے ہیں جنہوں نے کوئی خاص کارنامہ سر انجام دیا ہے۔مطالعہ کا بے حد شوق تھا۔ان کی اپنی لائبریری تھی جس میں ہزاروں کتابیں موجود تھیں۔ان کے ایک بیٹے خالد محمود صاحب واقف زندگی ہیں اور تحریک جدید کی سندھ کی زمینوں میں مینجر ہیں۔اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔مکرم ڈاکٹر عمر احمد صاحب اگلا ذکر ہے مکرم ڈاکٹر عمر احمد صاحب شہید ابن مکرم ڈاکٹر عبدالشکور میاں صاحب کا۔شہید مرحوم کے دادا چوہدری عبد الستار صاحب نے 1921 ء یا 22ء میں بیعت کی تھی۔ان کے ننھیال گورداسپور جبکہ ددھیال میاں چنوں کے رہنے والے تھے۔ان کے والد صاحب کے خالو حضرت مولوی محمد دین صاحب لمبا عرصه صدر، صدر انجمن احمد یہ رہے ہیں۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے ہیں۔اسی طرح مولا نار حمت علی صاحب مبلغ انڈونیشیا اور چوہدری احمد جان صاحب سابق امیر ضلع راولپنڈی ان کے والد کے خالو تھے۔حضرت منشی عبد العزیز صاحب او جلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے والد کے نانا تھے۔شہید مرحوم جولائی 1979ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ایم ایس سی آنر ز مائیکر و بیالوجی کرنے کے بعد سترہ گریڈ کے ویٹرنری آفیسر تعینات ہوئے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر اکتیس برس تھی۔نظام وصیت میں شامل تھے۔مسجد دارالذکر میں شدید زخمی ہوئے۔ہسپتال میں زیر علاج رہے اور بعد میں شہید ہوئے۔سانحہ کے روز ملازمت سے ہی نماز جمعہ ادا کرنے دارالذکر پہنچے۔ابھی وضو کر رہے تھے کہ فائرنگ شروع ہو گئی۔لفٹ کے پاس کھڑے تھے کہ دہشتگرد کی دو تین گولیاں ان کے گردوں کو چھلنی کرتی ہو ئیں نکل گئیں۔شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا۔جہاں ان کے چار آپریشنز ہوئے۔ایک گردہ بالکل ختم ہو چکا تھا اسے نکال دیا گیا۔علاج کی پوری کوشش کی گئی۔ستر بو تلیں خون کی دی گئیں لیکن جانبر نہ ہو سکے اور مورخہ 4 جون کو جام شہادت نوش فرمایا۔اہل