خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 293

خطبات مسرور جلد ہشتم 293 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 تقسیم کرتے ہیں تو آپ کی کوئی بوتل جعلی نہیں ہوتی۔بالکل خالص چیز ہوتی ہے۔پاکستان میں تو جعلی بوتلوں کا، کسی بھی چیز کا جعلی کاروبار بہت زیادہ ہے۔ہر چیز میں ملاوٹ ہوتی ہے۔تو انہوں نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ کی شہرت تو ہے ہی، آپ اپنے جو کریٹ بیچتے ہیں ان میں دو جعلی بوتلیں ڈال دیا کریں۔اس سے آپ کا منافع جو ہے کئی گنا بڑھ جائے گا اور کروڑ پتی ہو جائیں گے۔لیکن آپ نے کبھی ان کی بات نہیں مانی اور نہ کبھی ایسے سوچا۔جو مشورہ دینے آتے تھے آپ ان لوگوں کی بڑی مہمان نوازی کرتے تھے اور اس وقت بڑے آرام سے کہہ دیا کرتے تھے کہ آپ غلط جگہ پر آگئے ہیں۔چھ سال امیر جماعت تحصیل وزیر آباد بھی رہے۔آپ کے ایک بیٹے قمر احمد صاحب مربی سلسلہ آج کل ببین میں ہیں۔شہادت کے وقت ان کی عمر 65 سال تھی۔وصیت کی ہوئی تھی اور آپ کی شہادت بھی دارالذکر مسجد میں ہوئی۔جب حملہ ہوا ہے تو اپنی جگہ پر لیٹے رہے اور حملہ کے بعد محراب کے پاس گرینیڈ گر اتو زخمی ہو گئے۔گردن کا بائیں طرف کا حصہ گرینیڈ پھٹنے سے اڑ گیا۔اور کافی بلیڈنگ ہوئی اور بھانجے کو فون کیا کہ بیٹا میں کافی زخمی ہو گیا ہوں۔پانچ چھ گولیاں میرے جسم میں بھی لگی ہیں۔انتہائی نرم دل، غریب پرور اور توکل کرنے والے انسان تھے۔ہر ایک سے شفقت اور محبت کا سلوک کرتے تھے۔دعا گو انسان تھے۔کسی کی تکلیف کا پتہ چلتا تو فوری دعا شروع کر دیتے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ میری رفاقت ان سے 39 سال رہی۔کبھی انہوں نے مجھے اُف نہیں کہا۔اور نہ ہی بچوں کو کچھ کہا میں اگر کچھ کہتی تھی تو یہی کہتے تھے کہ دعا کیا کرو، میں بھی ان کے لئے دعا کر تا ہوں۔بچوں کے لئے بہت محبت تھی۔گھر میں کسی قسم کی غیبت کو نا پسند کرتے اور منع کر دیتے۔اور کوئی بات شروع کرتا تو فوراً روک دیتے۔گوجر انوالہ میں کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔وہاں کی مالکن جو غیر احمدی تھی وہ شہید مرحوم کے بارے میں کہتی تھیں کہ میری یہ سعادت ہے کہ میاں مبشر صاحب میرے کرایہ دار ہیں اور میں یہ دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے بچوں کو بھی ان جیسا انسان بنائے اور بھائی جان آپ بھی میرے بچوں کی تربیت کریں۔کاروبار میں جب کھانے کا وقت آتا تھا تو اپنے کام کرنے والے جو ملازمین تھے ، ان کے کھانے وانے کا بڑا خیال رکھتے تھے۔تبلیغ بھی کرتے رہتے تھے۔اہلیہ کہتی ہیں کہ اکثر یہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ میں تو نالائق انسان ہوں اللہ تعالیٰ مجھے 33 نمبر دے کر ہی پاس کر دے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اپنے فضل سے سو فیصد نمبر دے کر شہادت کار تبہ دے دیا۔مکرم فدا حسین صاحب فدا حسین صاحب شہید ابن مکرم بہادر خان صاحب۔ان کا تعلق کھاریاں ضلع گجرات سے ہے۔وہیں پید اہوئے۔قریباً چار سال کی عمر میں ہی والدین ایک ماہ کے وقفہ سے وفات پاگئے۔یہ میاں مبشر احمد صاحب جن کا پہلے ذکر آیا ہے ان کے کزن بھی تھے۔اور والدین کی بچپن میں وفات کی وجہ سے میاں مبشر احمد صاحب کے زیر کفالت ہی رہے۔غیر شادی شدہ تھے۔ان کی عمر شہادت کے وقت 69 سال تھی اور انہوں نے دارالذکر میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔یہ تھوڑے سے معذور تھے، جمعہ کے روز مسجد کے صحن میں معذوری کے پیش نظر