خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 292
خطبات مسرور جلد ہشتم 292 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 ٹاؤن گیا۔چھ بجے معلوم ہوا کہ مظفر صاحب شہید ہو گئے ہیں۔وہاں مردہ خانے میں ان کی نعش ملی۔پانچ گولیاں ان کو لگی ہوئی تھیں۔زخمی ہونے کی حالت میں ان کو دیکھنے والے جو ان کے قریبی تھی انہوں نے بتایا کہ خود بھی درود شریف پڑھ رہے تھے اور دوسروں کو بھی یہی تلقین کرتے تھے کہ درود پڑھو اور استغفار کرو۔ان کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ مظفر صاحب بچپن سے ہی نماز تہجد ادا کرنے کے عادی تھے۔کبھی تہجد نہیں چھوڑی۔بچوں کو بھی یہ تلقین کرتے تھے۔اونچی آواز میں تلاوت کرتے تھے۔بلکہ پانچوں وقت نماز کے بعد تلاوت کیا کرتے تھے۔کچھ دن قبل روزے بھی رکھے۔تھوڑے تھوڑے دنوں بعد روزے رکھتے رہتے تھے۔ہر ایک کو یہی کہتے تھے کہ میرے لئے دعا کرو کہ میرا انجام بخیر ہو۔گھر کی سب ذمہ داریاں پوری کرتے تھے۔نہ کبھی جھوٹ بولانہ جھوٹ برداشت کر سکتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو شہادت کا رتبہ دیا اور جس چیز کے لئے دعا کے لئے کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کا انجام بھی قابلِ رشک کیا ہے۔ان کی ہمشیرہ قادیان میں ہیں جو ناظر صاحب اعلیٰ کی اہلیہ ہیں۔انہوں نے بھی لکھا کہ داماد سے دوستوں کی طرح تعلق تھا۔بہنوں سے بھی بڑا حسن سلوک کرتے تھے۔بڑی بیٹی نے بتایا کہ میرے ماموں کی بیٹی وہاں ربوہ میں بیاہی ہوئی ہیں۔اس کے گھر گئے تو دو مر تبہ ایسا ہوا کہ ایم ٹی اے پر خلافت جو بلی والا عہد دہرایا جارہا تھا تو کھڑے ہو کر بلند آواز سے اس عہد کو دہرانے لگے۔جس طرح کمرے میں اور کوئی موجود نہیں ہے اور صرف انہی کو کہا جارہا ہے کہ عہد دہرائیں۔1980ء میں ان کو حج کرنے کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔مکرم میاں مبشر احمد صاحب مکرم میاں مبشر احمد صاحب شہید ابن مکرم میاں برکت علی صاحب۔شہید مرحوم کے والد میاں برکت علی صاحب نے 1928ء میں بیعت کی تھی اور پھر تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل ہوئے۔شہید مرحوم حضرت میاں نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے ہیں۔کھاریاں ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔پھر یہ 2008ء میں لاہور شفٹ ہو گئے۔پہلے یہ لوگ وزیر آباد رہتے تھے۔ان کا کوکا کولا کا ڈسٹری بیوشن کا کاروبار تھا۔1974ء میں کاروبار ختم ہو گیا۔لوگوں نے تمام سامان لوٹ لیا۔شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ان حالات میں ایک دفعہ جماعتی ڈاک مرکز دے کر ربوہ سے واپس وزیر آباد جا رہے تھے تو چنیوٹ پہنچنے پر ان کو گاڑی سے اتارنے کی کوشش کی گئی کہ مرزائی ہے، اسے مارو۔لیکن بہر حال ڈرائیور نے گاڑی چلا دی اور وہاں تو کچھ نہیں ہوا۔پھر گوجر انوالہ پہنچنے پر بھی جلوس نے آپ پر حملہ کیا۔بہر حال اس طرح بچتے بچاتے آدھی رات کو اپنے گھر پہنچے۔ان دنوں جو حالات تھے بڑے خوفناک حالات تھے۔اور مرکز سے رابطے کے لئے جو لوگ آتے تھے وہ بڑی قربانی دے کر آتے تھے۔بہر حال قربانیوں کے لئے تو یہ ہر دم تیار تھے۔اور پھر دوبارہ انہوں نے 1998ء میں ڈسٹری بیوشن کا کام شروع کیا۔کوکا کولا کے ڈسٹری بیوٹر بنے۔جب بو تلوں کا کام کرتے تھے تو کئی پارٹیاں آکر یہ لالچ دیتی تھیں کہ آپ کی ایمانداری کی بہت شہرت ہے۔جب آپ بوتلیں