خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 284
خطبات مسرور جلد ہشتم 284 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 مکرم ولید احمد صاحب ولید احمد صاحب شہید ابن مکرم چوہدری محمد منور صاحب۔شہید مرحوم کے دادا مکرم چوہدری عبد الحمید صاحب سابق صدر جماعت محراب پور سندھ نے 1952ء میں احمدیت قبول کی تھی۔10 اپریل 1984ء کو محراب پور میں ہی ان کے دادا نے جام شہادت نوش کیا۔اسی طرح شہید مرحوم کے نانا مکرم چوہدری عبد الرزاق صاحب سابق امیر جماعت نوابشاہ سندھ کو 7 اپریل 1985ء کو معاندین احمدیت نے شہید کر دیا۔ان کے والد صدر عمومی ربوہ کے دفتر میں اعزازی کارکن ہیں۔شہادت کے وقت عزیز شہید کی عمر ساڑھے سترہ سال تھی اور میڈیکل کالج کے فرسٹ ائیر میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔وقف نو سکیم میں شامل تھا۔موصی بھی تھا۔اس کی شہادت بھی دارالذکر میں ہوئی ہے۔اور لاہور کا جو سانحہ ہوا ہے اس میں سب سے کم عمر یہ عزیز بچہ ہے۔شہادت والے دن موصوف جمعہ کی ادائیگی کے لئے کالج سے سیدھے اپنے دوسرے احمدی ساتھی طالبعلموں سے پہلے دارالذکر پہنچ گئے۔سانحہ کے دوران موبائل پر رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میری ٹانگ میں گولی لگی ہے اور متعدد شہیدوں کی لاشیں میرے سامنے پڑی نظر آرہی ہیں۔دعا کریں خدا تعالیٰ فضل فرمائے۔انہوں نے ایف ایس سی ربوہ سے کی تھی۔لاہور میں داخلہ ہوا۔جب آخری بار ربوہ سے لاہور گئے تو اپنے ساتھی خدام دوستوں سے باری باری گھر جا کر ملے اور سب سے کہا مجھے مل لیں میرا کیا پتہ کہ میں شہید ہو جاؤں۔شہید مرحوم پنج وقتہ نمازی تھے۔فرمانبر دار تھے، سلجھے ہوئے تھے۔راستے میں آتے جاتے آنے والے ساتھیوں کو اپنے دوستوں کو مسجد میں لے کر جایا کرتے تھے۔کم گو اور ذہین نوجوان تھے۔اپنی تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔شہادت کے ضمن میں شہید مرحوم کے بچپن کی سیکرٹری وقف نو نے بتایا کہ عزیزم ولید احمد کے بچپن کا ایک واقعہ ہے جب اس کی عمر گیارہ سال کی تھی تو ایک دن میں نے دورانِ کلاس سب وقف نو بچوں سے فرداً فرداً پوچھا کہ تم بڑے ہو کر کیا بنو گے ؟ جب عزیزم ولید کی باری آئی تو کہنے لگا کہ میں بڑا ہو کر اپنے دادا جان کی طرح شہید بنوں گا۔شہید مرحوم کی اپنی تعلیمی ادارے میں مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہادت کے بعد تدفین والے دن اس کے اساتذہ اور طلباء نے ایک ہی دن میں تین دفعہ تعزیتی تقریب منعقد کی جس میں شامل ہونے والے اکثر غیر از جماعت طالب علم تھے۔شہید مرحوم کے استاد نے بذریعہ فون اطلاع دی کہ ہم ٹیچر اور ہمارے طالب علم تدفین میں شامل ہونے کے لئے ربوہ آنے کا پروگرام بنا چکے تھے کہ تمام طالب علم بلک بلک کر زار و قطار رونے لگے اور خدشہ پیدا ہوا کہ یہی حال رہا تو ربوہ جا کر ولید کا چہرہ دیکھ کر غم کی شدت سے بالکل بے حال نہ ہو جائیں اس لئے ہم نے مجبوراً یہ پروگرام ملتوی کر دیا اور کسی اور وقت آئیں گے۔اللہ تعالیٰ اس قربانی کو قبول فرماتے ہوئے ہزاروں لاکھوں ولید جماعت کو عطا فرمائے۔