خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 283

خطبات مسرور جلد ہشتم 283 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 ساتھ ہوئی، بڑی دھیمی آواز میں کہا کہ امی کو نہ بتانا وہ پریشان ہوں گی۔نمازوں کے پابند تھے۔ہر جمعہ سے قبل صدقہ دینا معمول تھا اور اب بھی جب جمعہ پڑھنے ڈیوٹی پر مسجد میں آئے ہیں تو ان کی جیب میں سے اس تاریخ کی بھی 50 روپے صدقہ کی رسید نکلی۔علاقے کے چوکیدار نے رو رو کر بتایا کہ ہمیشہ مجھے جھک کر سلام کیا کرتے تھے۔دونوں بھائی اکٹھے ہی ایک دکان کرتے تھے۔چھوٹے بھائی نے ان کو کہا کہ آج مجھے جمعہ پر جانے دو۔تو انہوں نے کہا نہیں اس دفعہ مجھے جانے دو، اگلی دفعہ تم چلے جانا۔ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔والدین جب بھی شادی کے لئے کہتے تو کہتے پہلے چھوٹی بہن کی شادی کرلوں۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت اور مغفرت کی چادر میں لپیٹے۔مکرم پروفیسر عبد الودود صاحب پروفیسر عبد الودود صاحب شہید ابن مکرم عبد المجید صاحب۔یہ حضرت شیخ عبد الحمید صاحب شملوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔اور گورنمنٹ کالج باغبان پورہ لاہور میں انگلش کے پروفیسر تھے۔جماعتی خدمات میں فعال تھے۔ان کی اہلیہ بھی اپنے حلقہ کی صدر لجنہ اماء اللہ ہیں۔خلافت جوبلی کے موقع پر ان کی کوششوں سے حلقہ میں بہت بڑا جلسہ منعقد ہوا۔بڑے حلیم طبع ، ملنسار اور نفیس طبیعت کے مالک تھے۔کلمہ کیس میں اسیر راہِ مولیٰ بھی رہے۔سات سال مقدمہ چلتا رہا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 55 سال تھی۔انگلش کے پروفیسر تھے۔ایل ایل بی بھی کیا ہوا تھا۔موصوف مجلس انصار اللہ کے انتہائی محنتی اور مخلص کار کن تھے۔نائب زعیم انصار اللہ لاہور چھاؤنی تھے۔خدام الاحمدیہ میں بھی کام کرتے رہے۔کچھ عرصہ صدر حلقہ مصطفیٰ آباد بھی خدمت انجام دی۔موصی تھے اور دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔شہید موصوف دہشتگردوں کی فائرنگ کے دوران مربی ہاؤس کی طرف جارہے تھے کہ ایک دہشتگرد نے سامنے سے گولی چلائی اور موصوف مربی ہاؤس کے دروازے پر شہید ہو گئے۔ان کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ بہت محبت کرنے والے اور نرم طبیعت کے مالک تھے۔کہتی ہیں کہ شادی کے 23 سالوں میں میرے خاوند نے کبھی کوئی ترش لفظ نہیں بولا۔بچوں سے دو معاملوں میں سختی کرتے تھے۔نماز کے معاملے میں اور گھر میں جاری ترجمۃ القرآن کلاس میں شرکت کے بارے میں۔اور ترجمہ قرآن کی کلاس جو لیتے تھے اس میں تقریباً سترہ سپارے پڑھ لئے تھے۔کہتی ہیں حدیث کا بھی گھر میں با قاعدہ درس ہو تا تھا۔چھوٹی عمر سے ہی بحیثیت عہدیدار کے خدمت کا موقع ملتا رہا۔کام کرنے کا جذ بہ بہت زیادہ تھا۔عملی کام کے قائل تھے۔بڑے بھائیوں نے بتایا کہ بھائیوں سے دوستانہ تعلقات تھے۔بھائیوں میں ہر کام اتفاق رائے سے ہوتا۔کبھی کوئی مشکل پیش آتی تو شہید مرحوم کے مشورے سے مستفید ہوتے۔چھوٹے بھائی کا مکان بن رہا تھا۔سب بھائیوں نے قرض کے طور پر اس کو رقم دینے کا فیصلہ کیا اور مرحوم نے اپنے حصہ کی رقم سب سے پہلے ادا کی۔اور شہید مرحوم ہم بھائیوں سے کہا کرتے تھے کہ جہاں بھی کوئی ضرورت مند ہو اس کی مدد کر کے مجھ سے رقم لے لیا کرو۔اللہ تعالیٰ ان کی نیکیاں ان کی نسلوں میں بھی جاری رکھے۔