خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 266 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 266

خطبات مسرور جلد ہشتم 266 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 ہمارا معین و مددگار ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ وہ ہمیشہ ہماری مدد کر تا رہے گا اور اپنی حفاظت کے حصار میں ہمیں رکھے گا۔ان لوگوں سے آئندہ بھی کسی قسم کی خیر کی کوئی امید نہیں اور نہ کبھی ہم رکھیں گے۔اس لئے احمدیوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔اور دعاؤں کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اَللهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ کی دعا بہت پڑھیں۔رَبِّ كُلَّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِيْ وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي کی دعاضرور پڑھیں۔اس کے علاوہ بھی بہت دعائیں کریں۔ثبات قدم کے لئے دعائیں کریں۔ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائیں، روئیں۔ان دو مساجد میں جو ہمارے زخمی ہوئے ہیں ان کے لئے بھی دعائیں کریں۔ان زخمیوں میں سے بھی آج ایک اور ڈاکٹر عمران صاحب تھے ان کی شہادت ہو گئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللہ تعالیٰ باقی جو زخمی ہیں ان کو شفا عطا فرمائے اور ہر احمدی کو ہر شر سے ہمیشہ بچائے۔احمدیوں نے پاکستان کے بنانے میں کردار ادا کیا تھا اور ان لوگوں سے بڑھ کر کیا تھا، جو آج دعویدار ہیں، جو آج پاکستان کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں اس لئے ملک کی بقا کے لئے بھی دعا کرنا ہمارا فرض ہے۔اور ان لوگوں کے شر سے بچنے کے لئے اور ان کے عبرتناک انجام کے لئے بھی دعا کریں جو ملک میں افرا تفری اور فساد پھیلا رہے ہیں، جنہوں نے ملک کا سکون برباد کیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔شہید۔قطب ستارے ایک بات اور کہنا چاہوں گا۔ایک احمدی نے بڑے جذباتی انداز میں ایک خط لکھا لیکن اس سوچ پہ مجھے بڑی حیرت ہوئی، کیونکہ پڑھے لکھے بھی ہیں جماعتی خدمات بھی کرنے والے ہیں۔ایک فقرہ یہ تھا کہ ”دشمن نے کیسے کیسے ہیرے مٹی میں رول دیئے“۔یہ بالکل غلط ہے۔یہ ہیرے مٹی میں رولے نہیں گئے۔ہاں دشمن نے مٹی راپنے میں رولنے کی ایک مذموم کوشش کی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اہمیت پہلے سے بھی بڑھا دی اور ان کو اٹھا کر ا۔سینے سے لگالیا۔ان کو دائمی زندگی سے نوازا۔اس ایک ایک ہیرے نے اپنے پیچھے رہنے والے ہیروں کو مزید صیقل کر دیا۔ان جانے والے ہیر وں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے چمکدار ستاروں کی صورت میں آسمانِ اسلام اور احمدیت پر سجا دیا جس نے نئی کہکشائیں ترتیب دے دی ہیں اور ان کہکشاؤں نے ہمارے لئے نئے راستے متعین کر دیئے۔ان میں سے ہر ہر ستارہ جب اس سے علیحدہ ہو کے بھی ہمارے لئے قطب ستارہ بن جاتا ہے۔پس ہمارا کوئی بھی دشمن کبھی بھی اپنی مذموم اور فتیح کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔اور ہر شہادت بڑے بڑے پھل پیدا کرتی ہے ، بڑے بڑے مقام حاصل کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب شہیدوں کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے، اور ہم بھی ہمیشہ استقامت کے ساتھ دین کی خاطر قربانیاں دیتے چلے جانے والوں میں سے ہوں۔