خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 265
خطبات مسرور جلد ہشتم 265 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 میں نے ذکر کیا تھا کہ ان واقعات کا پریس نے اور پاکستان پریس نے بھی ذکر کیا۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزا دے اور ہمیشہ حق کہنے کی توفیق دیتار ہے۔اب اس حق کہنے کے بعد کہیں مولویوں کے رد عمل سے ڈر کر پھر پرانی ڈگر پر نہ چل پڑیں۔اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک کے پریس ہیں، حکومتیں ہیں ان کی طرف سے بیان آئے، statements آئیں، ہمدردی کے پیغام آئے اور مختلف حکومتوں کے نمائندے، یہاں کی حکومت کے نمائندے نے بھی انگلستان کے ممبران پارلیمنٹ نے بھی ہمدردی اور تعزیت کے پیغام بھیجے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔اور تو اور ختم نبوت کی طرف سے بھی اخبار میں خبر آئی تھی کہ بڑا غلط کام ہوا ہے اور یہ درندگی ہے اور یہ نہیں ہونی چاہئے تھی۔تو پھر وہ جو بینر ہیں جو پوسٹر ہیں جو دیواروں پر لگے ہوئے ہیں جو سڑکوں پر لگے ہوئے ہیں حتی کے ہائی کورٹ کے جوں کے نیم پلیٹس (Name Plates) کے نیچے لگے ہوئے ہیں، جس میں احمدیوں کے خلاف گندی زبان استعمال کی گئی ہے انہیں مرتد کہا گیا ہے، انہیں واجب القتل کہا گیا ہے ، وہ کس کے لگائے ہوئے ہیں ؟ تم لوگ ہی تو ہو اس دنیا کو ، ان لوگوں کو ، بے عقلوں کو جوش دلانے والے، اور اب جب یہ دیکھا کہ دنیا کا رُخ اس طرف آگیا ہے تو ہم بھی ہیں تو سہی اس اس ظلم میں شامل، پھر دنیا کی نظر میں ہم اس ظلم میں شامل ہونے سے بیچ جائیں تو یہ بیان دینے لگ گئے ہیں۔تو احمدیوں کے خلاف یہ بغض اور کینہ جو ان نام نہاد علماء کی طرف سے دکھایا جارہا ہے۔یہی اصل وجہ ہے جو یہ ساری کارروائی ہوئی ہے۔پاکستان کے چیف جسٹس صاحب ہیں۔ذرا ذراسی بات پر خود نوٹس لیتے ہیں۔اخباروں میں یہ بات آجاتی ہے۔تو یہ جو اتنا بڑا ظلم ہوا ہے اور یہ جو بینر لگے ہوئے ہیں اور جو پوسٹر لگے ہوئے ہیں اس پر ان کو خیال نہیں آیا کہ خود کوئی نوٹس لیں اور یہ علماء جو لوگوں کو اکسا رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کریں۔کیا انصاف قائم کرنے کے معیار صرف اپنی پسند پر منحصر ہیں ؟ جیسا کہ میں نے کہا، ہمارا رونا اور ہمارے دکھ تو خدا تعالیٰ کے سامنے ہیں۔ان سے تو ہم نے کچھ نہیں لینا۔لیکن صرف ان کے معیاروں کی طرف میں نشاندہی کر رہا ہوں۔ہمارا تو ہر ابتلاء کے بعد اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانیوں کا اور اس کی رضا کے حصول کا ادراک اور بڑھتا ہے۔بندے نہ تو ہمارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں یہ کچھ دے سکتے ہیں۔بے شک دنیا میں آج کل دہشتگردی بہت زیادہ ہے۔پاکستان میں اس کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔لیکن احمدیوں کے خلاف دہشتگردی کو قانون کا تحفظ حاصل ہے۔اس لئے جو ان کے دل میں آتا ہے وہ کرتے ہیں۔مونگ رسول کا واقعہ ہوا، وہاں بھی دہشت گردی ہوئی، وہاں کے جو دہشت گرد تھے پکڑے گئے تھے ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ کیا ان کو سزا دی گئی ؟ وہ پاکستانی گلیوں میں آج بھی آزادی کے ساتھ پھر رہے ہیں۔پس ان سے تو کوئی احمدی کسی قسم کی کوئی توقع نہیں کر سکتا اور نہ کرتا ہے۔ہمارا مولیٰ تو ہمارا اللہ ہے اور اس پر ہم تو کل کرتے ہیں۔وہی