خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 7
خطبات مسرور جلد ہشتم حقوق العباد 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010 یہ ہے ایک مومن کی نشانی، اس کا مقام کہ وہ اس بات پر ایمان نہیں رکھتا کہ آدم اور ابن آدم کی غلطیوں اور گناہوں کا کفارہ ایک شخص کی لعنتی موت ہو سکتی ہے۔بلکہ ایک حقیقی مومن کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری زندگی ایک مسلسل جدوجہد ہے، مسلسل قربانی ہے۔اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا ہے اور اس پر قائم رہنا ہے۔حقوق العباد کی طرف توجہ دینا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح روحانی ترقی کے لئے کوشش، توجہ اور حقوق اللہ کی ادائیگی ضروری ہے۔اپنی روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرے کو گناہوں سے بچانے کی کوشش بھی انتہائی ضروری ہے۔دنیا کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ نئے سال کا استقبال نشے میں دھت ہونے اور بیہودگیاں کرنے سے نہیں کیا جاتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور پاک دل لے کر حاضر ہونے سے کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے روحانی معیاروں کو بڑھانے کے لئے دعاؤں سے کیا جاتا ہے۔مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کے لئے قربانیاں کرنے سے کیا جاتا ہے۔توبہ و استغفار سے کیا جاتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کی جہنم سے بھی بچائے اور آخرت کی جہنم سے بھی بچائے۔ہر ایک خود اپنے عمل کا جوابدہ ہے۔کوئی کسی کا کفارہ نہیں بن سکتا۔پس یہ نیک اعمال ہیں جو دنیا کی حسنات سے حصہ دلانے کا بھی باعث بنتے ہیں اور آخرت کی حسنات سے حصہ دلانے کا بھی باعث بنتے ہیں۔پس یہ تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی کامل پیروی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے والی ہوتی ہے جیسا کہ بیان ہوچکا ہے۔رسول اللہ صلی الم کی کامل پیروی خدا تعالیٰ کا محبوب بناتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ جو دوہرا حصہ دیتا ہے اور نور عطا فرماتا ہے یہ دوہرا حصہ اس دنیا کی بھی حسنات ہیں اور آخرت کی بھی حسنات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ: ”اے ایمان لانے والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قویٰ اور حواس میں آجائے گا تمہاری عقل میں بھی نور ہو گا اور تمہاری ایک اٹکل کی بات میں بھی نور ہو گا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہو گا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے قویٰ کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی