خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 6
خطبات مسرور جلد ہشتم 6 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010 عزت دی یہ رسولِ خدا ہے تمام نبیوں کے پیرایہ میں یعنی ہر ایک نبی کی ایک خاص صفت اس میں موجود ہے۔تجھے بشارت ہو اے میرے احمد۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 82،81) جَرِيُّ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبیاء کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: ”اس وحی الہی کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک جس قدر انبیاء علیهم السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں آئے ہیں۔خواہ وہ اسرائیلی ہیں یا غیر اسرائیلی ان سب کے خاص واقعات یا خاص صفات میں سے اس عاجز کو کچھ حصہ دیا گیا ہے“۔آنحضرت صلی الل علم سے عشق کی وجہ سے (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 116) ہر ایک نبی کی فطرت کا نقش میری فطرت میں ہے اور آنحضرت صلی الم سے تو عشق صادق کی وجہ سے بروزی نبی کا اعزاز پاتے ہوئے آپ کو آنحضرت صلی علیم کے نور سے جو حصہ ملا ہے اس کی تو کوئی انتہاء نہیں ہے۔یہ آدم جو اس زمانہ میں آیا یہ نور محمدی سے پر ہے۔اس لئے روشنی کے نئے سے نئے راستے ہمیں دکھاتا ہے۔دعاؤں کے طریقے اور قرینے ہمیں سکھائے۔دنیا و آخرت کی حسنات کے حصول کی طرف ہماری راہنمائی فرمائی تاکہ ہم ہمیشہ دنیوی اور اخروی جنتوں کے وارث بنے رہیں۔پس اس نور سے فیض حاصل کرنے کے لئے اپنی زندگی کے سال کے پہلے دن کو ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر دن کو بابرکت بنانے کے لئے دعاؤں اور اعمال صالحہ کی ضرورت ہے جس کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔میں امید کرتا ہوں کہ آج اس سال کے اس بابرکت دن کو احمدیوں نے اس جذبے کے تحت ہی گزارا ہو گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مساجد میں باجماعت تہجد کی نماز بھی ادا کی گئی۔ہے۔اب یہ جذبہ اس پہلے دن میں ختم نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ ہر آنے والا دن اس کے اثرات کو ظاہر کرتے چلے جانے والا بنتا چلا جائے۔ہمارا ہر قدم تقویٰ کی طرف بڑھنے والا ہو۔رسول پر ایمان مضبوط تر کرنے والا ہو۔پہلے دن کی اس سلسلہ میں کی گئی کوشش 365 دنوں پر حاوی ہونے والی ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ فرماتا ہے۔جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔وہ تمہیں اپنی رحمت میں سے دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں ایک نور عطا کرے گاجس کے ساتھ تم چلو گے۔اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔