خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 187

خطبات مسرور جلد ہشتم 187 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010 تقویٰ کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہر فردِ جماعت اپنے عہدیدار کے ساتھ مکمل تعاون اور اطاعت کا جذبہ رکھنے والا ہو۔اور ہر عہدیدار اپنے سے بالا عہدے دار کا احترام، تعاون اور اطاعت کے معیاروں کو حاصل کرنے والا ہو۔ذیلی تنظیمیں اپنے دائرے میں بے شک آزاد ہیں اور خلیفہ وقت کے ماتحت ہیں۔لیکن جماعتی نظام کے تحت ذیلی تنظیموں کا ہر عہدیدار بھی فردِ جماعت کی حیثیت سے جماعتی نظام کا پابند ہے اور اس کے لئے اطاعت لازمی ہے۔پس اس طرف بھی خاص توجہ دیں۔اگر جماعتی ترقی دیکھنی ہے، اگر اپنی تبلیغی کوششوں کے پھل دیکھنے ہیں ؟ اگر اپنے تربیتی معیاروں کو بلند کرنا ہے ؟ تو ہر جگہ یکجان ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔پس تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے زندگی بسر کریں۔اختلافات کی صورت میں بھی دعا سے کام لیں۔زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اگر کسی سے بہت بڑا اختلاف کوئی ایسا ہوا ہے جس سے کسی کی نظر میں جماعت کا نظام متاثر ہو سکتا ہے یا جماعت کے لئے کسی طرح بھی وہ نقصان کا باعث ہے تو میرے علم میں وہ بات لے آئیں لیکن اطاعت میں فرق نہیں آنا چاہئے۔ہر لیول پر اطاعت ہو گی تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں پر شکر گزاری کا ذریعہ بنے گی۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اور خاص طور پر عہدیداران کو اپنے اعلیٰ نمونے قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ نئے آنے والوں کے لئے وہ مثال ہوں نہ کہ کسی قسم کا ٹھو کر کا باعث بنیں۔مردوں اور عورتوں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ جہاں وہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے اور تقویٰ پر چلنے کی طرف توجہ دیں وہاں اپنے بچوں کی بھی ایسے رنگ میں تربیت کریں کہ وہ بڑے ہو کر اسلامی تعلیم کے صحیح نمونے بنیں بلکہ بچپن سے ہی ان سے اسلامی تعلیمات کا اظہار ہو تا ہو۔ایک احمدی بچے اور ایک غیر مسلم یا غیر احمدی بچے میں فرق ظاہر ہوتا ہو۔اور پھر یہ بچے، نئی نسل احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے میں بھر پور کوشش کرنے والے بنیں تا کہ اس ملک میں بھی احمدیت کا پیغام ہمیشہ پھیلتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین) الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 19 مورخہ 7 مئی تا 13 مئی 2010 صفحہ 5 تا 8)