خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 186 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 186

خطبات مسرور جلد ہشتم 186 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010 موت نہ آئے جب تک فرمانبردار نہ ہو جاؤ۔زندگی موت تو کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے زندہ رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے مارتا ہے۔اس حصہ کا پھر یہی مطلب بنتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنا چاہئے تا کہ جب ہمیں موت آئے تو ایسی حالت میں آئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ کوشش کرنے والے ہوں۔پس ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے بنے رہیں۔انسان غلطیوں کا پتلا ہے۔انسان پر کسی وقت کمزوری کی حالت بھی آسکتی ہے اس لئے جب ہم اللہ تعالیٰ سے ہر وقت مدد مانگتے رہیں گے کہ ہمیں کبھی اطاعت سے باہر ہونے کی حالت میں موت نہ آئے۔ہمیں کبھی تقویٰ سے دور ہونے کی حالت میں موت نہ آئے تو خدا تعالیٰ پھر ایسے حالات پیدا فرما دیتا ہے کہ جب بھی موت آئے تو ہمیشہ ایمان اور تقویٰ کی حالت میں موت آئے۔اس لئے انجام بخیر ہونے کی دعا بھی بڑی اہم اور ضروری دعا ہے جو حقیقی مومن کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”موت کی گھڑی کا علم نہیں اور یہ پکی بات ہے کہ وہ یقینی ہے ، ٹلنے والی نہیں۔تو دانشمند انسان کا فرض ہے کہ ہر وقت اس کے لئے تیار ہے۔اسی لئے قرآنِ شریف میں فرمایا گیا ہے فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَانْتُم مُّسْلِمُونَ ( البقرة : 133)۔ہر وقت جب تک انسان خدا تعالیٰ سے اپنا معاملہ صاف نہ رکھے اور ان ہر دو حقوق کی پوری تکمیل نہ کرے، بات نہیں بنتی“۔فرمایا کہ: ”جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ حقوق بھی دو قسم کے ہیں۔ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد۔اور حقوق عباد بھی دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو دینی بھائی ہو گئے ہیں خواہ وہ بھائی ہے یا باپ، یا بیٹا۔مگر ان سب میں ایک دینی اخوت ہے۔اور ایک“ (یعنی دوسری قسم وہ ہے جو ) ” عام بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی “ ہے۔فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑا حق یہی ہے کہ اسی کی عبادت کی جاوے اور یہ عبادت کسی غرض ذاتی پر مبنی نہ ہو بلکہ اگر دوزخ اور بہشت نہ بھی ہوں تب بھی اس کی عبادت کی جاوے اور اس ذاتی محبت میں جو مخلوق کو اپنے خالق سے ہونی چاہئے کوئی فرق نہ آوے“۔فرماتے ہیں کہ ”بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دعانہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہو تا۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 68) پس یہ وہ تعلیم ہے جو حقیقی تقویٰ پر چلانے والی ہے اور اس پر عمل کرنا تقویٰ پر چلنے والوں کے لئے ضروری ہے تاکہ حقوق اللہ کی بجا آوری کی بھی پوری کوشش کی جائے اور حقوق العباد کی بجا آوری کی بھی کوشش کی جائے۔اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ماننے والوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کا سینہ دشمن کے لئے بھی صاف ہو اور اس کے لئے دعا کی جائے تو ہمیں آپس کے تعلقات میں کس قدر کوشش کر کے یکجان ہونے کی ضرورت ہے۔جب کہ خاص طور پر ولا تفرقوا کا حکم کہ آپس میں تفرقہ مت ڈالو، مومنوں کو دیا گیا ہے۔