خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 165
خطبات مسرور جلد ہشتم 165 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اپریل 2010 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ : چونکہ انسان فطرتاً خدا ہی کے لئے پیدا ہوا جیسا کہ فرمایا مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور مخفی در مخفی اسباب سے اسے اپنے لئے بنایا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصل غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو مگر جو لوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سور ہنا سمجھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دُور جا پڑتے ہیں اور خد اتعالیٰ کی ذمہ واری ان کے لئے نہیں رہتی۔فرمایا: وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے یہی ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) پر ایمان لا کر زندگی کا پہلو بدل لے۔کیا خوبصورت الفاظ میں نصیحت فرمائی ہے کہ اس بات کو سمجھ کر کہ زندگی کا مقصد کیا ہے عبادات میں جو سستیاں ہیں ان کو ترک کر دو اور عبادات کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرو۔موت کا اعتبار نہیں ہے۔تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔دنیا تمہارا مقصود بالذات نہ ہو۔میں اس لئے بار بار اس امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دور پڑا ہوا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو۔بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہاڑ میں جابیٹھو۔اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشاء نہیں۔اسلام تو انسان کو چست، ہوشیار اور مستعد بنانا چاہتا ہے۔اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جد وجہد سے کرو۔پوری کوشش سے کرو۔حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو وہ اس کا تر ڈد نہ کرے تو اس سے مواخذہ ہو گا۔اگر اپنے کاروبار میں اپنے کام میں پوری طرح توجہ نہیں دے رہے تو تب بھی تم پوچھے جاؤ گے۔پس اگر کوئی اس سے یہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جاوے وہ غلطی کرتا ہے۔نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کاروبار جو تم کرتے ہو، اس میں دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔کیا اللہ تعالیٰ کی رضا اس میں ہو سکتی ہے کہ کوئی غیر شرعی کام کیا جائے؟ سور اور شراب کے کام میں ملوث ہوا جائے؟ ہر گز نہیں۔پس یورپ میں رہنے والے ہر احمدی کو اس بنیادی نکتے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔فرمایا: اور اس کے ارادہ سے باہر نکل کر اپنی اغراض اور جذبات کو مقدم نہ کرنا۔ہر بات میں اللہ تعالیٰ کی منشاء کو دیکھنا (ماخوذ از الحکم جلد 5 نمبر 29 مورخہ 10 اگست 1901ء صفحہ 2) ضروری ہے۔پس آپ سب اس مقصد کے حصول کی ٹریننگ کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔اس لئے ان دنوں میں خاص طور پر اپنی عبادات کی طرف توجہ دیں اور دعاؤں کی طرف توجہ دیں۔جو نصائح اور علمی تقاریر کی جائیں ان سے صرف وقتی طور پر فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ اپنے عہد کی تجدید کرتے ہوئے اپنی حالتوں میں انقلاب لانے کی طرف