خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 148
خطبات مسرور جلد ہشتم 148 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مارچ2010 کرنے کی خاص طور پر نصیحت فرمائی اور اسی طرح حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اس میں بھی کمی نہیں ہونی چاہئے۔حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت نبی کریم صلی اللہ ہم نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو۔ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دے گا۔(یعنی کنجوسی سے خرچ نہ کرو) اور اپنی تھیلی کا منہ بند کر کے نہ بیٹھ جاؤ ورنہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا۔(یعنی اگر روپیہ نکلے گا نہیں، پیسہ خرچ نہیں کرو گے ، تو پھر آئے گا بھی نہیں۔اس لئے فرمایا کہ) جتنی طاقت ہے دل کھول کر خرچ کیا کرو۔( صحیح بخاری کتاب الزکوة باب التحريض على الصدقة - حدیث نمبر 1433) ہر ایک کی طاقت اس کی استعدادوں کے مطابق ہوتی ہے۔اس کے مال کے مطابق ہوتی ہے۔اس کے فرائض کے مطابق ہے۔اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دین کے اوپر خرچ کرنا چاہئے۔یہ تقویٰ اور تو گل جو آپ اپنے صحابہ میں پیدا فرمانا چاہتے تھے اور صحابہ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ تو کل ان کے اندر پیدا ہوا۔اور وہ لوگ جو ان پڑھ اور جاہل کہلاتے تھے وہ باخدا انسان کی عظیم مثالیں بن گئے۔آپ صلی للی نام کو امت کے لئے ہر وقت یہ فکر تھی ، دولت کی فکر نہیں تھی۔یہ فکر تھی کہ میری اُمت با خدا بنی رہے اور اس کے لئے صحابہ کو نصائح فرماتے تھے۔اور یہ نصائح اس لئے تھیں کہ آگے بھی پہنچتی رہیں۔ایسے ہی ایک موقع پر آپ صلی اللہ ﷺ نے صحابہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔اس کاروایت میں ذکر آتا ہے کہ حضرت عمرو بن عوف انصاری سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی علیم نے ابو عبیدہ بن الجراح کو جزیہ لانے کے لئے بحرین بھیجا۔رسول کریم صلی اللہ کریم نے اہل بحرین کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا تھا اور ان پر حضرت علاء بن الحضر می کو امیر مقرر فرمایا تھا۔چنانچہ جب حضرت ابو عبیدہ بحرین سے مال لے کر لوٹے اور انصار کو آپ کے آنے کی خبر ہوئی تو وہ کافی تعداد میں آنحضرت صلی علیم کے ساتھ صبح کی نماز میں حاضر ہوئے۔آپ جب نماز فجر پڑھا کر لوٹنے لگے تو یہ انصار حضور کے سامنے آگئے۔آپ مالی تعلیم نے جب انہیں دیکھا تو مسکراتے ہوئے فرمایا کہ شاید تم نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے کر لوٹے ہیں۔انہوں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ !۔آپ نے فرمایا: تو پھر خوشخبری ہو اور بے شک خوشکن امیدیں رکھو۔کیونکہ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارہ میں فقر و غربت سے نہیں ڈر تا بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا داری کی بساط اس طرح کھول دی جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کھول دی گئی تھی۔اور پھر تم اُن کی طرح اس میں مقابلہ کرنے لگ جاؤ۔اور پھر یہ دنیا داری اُن کی طرح تمہیں بھی ہلاک کر دے۔( صحیح مسلم کتاب الزهد والرقائق باب الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر حدیث نمبر 7319) آنحضرت صلی علیم کو یہ فکر تھی۔لیکن افسوس! آپ کے اس شدت کے اظہار کے باوجود، اس تنبیہ کے