خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 133 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 133

خطبات مسرور جلد ہشتم 133 12 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مارچ2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 مارچ 2010ء بمطابق 19 امان 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج میں پہلے تو ایک امر کا ذکر کروں گا جو گزشتہ خطبہ کا ہی حصہ ہے جس کے بارہ میں گزشتہ خطبہ میں توجہ نہیں دلا سکا۔اس کے بعد پھر بعض آیات کی وضاحت ہو گی جو آج کا مضمون ہیں۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا کہ رزق صرف مادی رزق اور دولت کا نام نہیں بلکہ انسان کی تمام تر روحانی صلاحیتیں اور جو قومی اللہ تعالیٰ نے انسان کو بخشے ہیں رزق کے زمرہ میں آتے ہیں۔یا کسی بھی قسم کی صلاحیتیں جو اس میں موجود ہیں اور یہ رزق بھی تمام و کمال اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی ای کم کو عطا فرمایا تھا جو آگے صحابہ کو آپ نے بانٹا۔اس میں ایک تو قرآن کریم ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمایا اور دوسرے آپ کی سنت، آپ کے ارشادات، جن سے صحابہ نے روحانی فیض پایا اور خوب خوب اپنی جھولیاں بھریں۔اور پھر آخری زمانہ کے لئے بھی آپ صلی ہم نے پیشگوئی فرمائی کہ جس طرح دنیا روحانی دیوالیہ پن کا شکار تھی۔آنحضرت صلی علیم کے زمانہ میں اور اس میں انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اور میرے آنے سے یہ روحانی رزق تقسیم ہوا اور اس رزق سے پھر ہزاروں لاکھوں روحانی مردوں میں جان پڑ گئی۔تو ایک وقت آئے گا کہ خال خال کے علاوہ پھر مسلمانوں میں بھی اس رزق کی کمی ہو جائے گی۔اس روحانی مائدہ اور خزانہ پر توجہ نہ دے کر عمومی مسلمان بھی اس روحانی دولت سے بے فیض اور محروم ہو جائیں گے۔اور اُس وقت پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک جری اللہ ، مسیح موعود اور مہدی موعود کی صورت میں آئے گا اور پھر میرے اس خزانے کو تقسیم کرے گا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ خزانے تقسیم کرنے تھے اور کئے جن کے بارہ میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اب میں وہ حدیث جو ابو داؤد نے اپنی صحیح میں لکھی ہے ناظرین کے سامنے پیش کر کے اس کے مصداق کی طرف ان کو توجہ دلاتا ہوں۔سو واضح ہو کہ یہ پیشگوئی جو ابوداؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص