خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 118
خطبات مسرور جلد ہشتم 118 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 جائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی یہ حالت اب دائمی رہنے والی ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو لمبا عرصہ فائدہ پہنچایا ہے۔بہت مال و متاع ان کے پاس تھا اور ہے۔دولتیں بھی اکٹھی کرتے چلے جاتے ہیں۔لیکن یادر کھو، اس طرف بھی نظر رکھو، اس طرف بھی دیکھو کہ پہلی قومیں بھی ختم ہو گئی تھیں۔وہ بڑی بڑی طاقتور قومیں تھیں اور ان کی سرحدیں چھوٹی ہوتی رہیں۔اب ماضی قریب میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یورپین قوموں کی حکومتیں جو تھیں، بہت پھیلی ہوئی تھیں۔ہندوستان کی سرحدیں بھی کہاں سے کہاں تک مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی تھیں اور پھر وہ چھوٹی ہوتی چلی گئیں۔کئی ملک آزاد ہوئے اور نئے ملک وجود میں آئے۔روس کس قدر وسیع رقبہ پر پھیل گیا تھا لیکن اب وہاں بھی آزاد ریاستوں کا قیام ہو گیا ہے۔یہی تقدیر کسی وقت امریکہ کے کا ساتھ بھی دہرائی جائے گی۔اسی طرح جب یہ بڑے ملک محفوظ نہیں تو چھوٹے ملک جو ہیں وہ کس بات پر بھروسہ کر رہے ہیں، ان کی اسمبلیاں کس طاقت پر زعم کئے بیٹھی ہیں؟ ان کی بھی کوئی حیثیت نہیں، وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔لیکن اسلام کے لئے خوشخبری ہے۔حقیقی مسلمانوں کے لئے خوشخبری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والوں کے لئے خوشخبری ہے کہ مسیح محمدی کی آمد کے ساتھ اسلام نے دنیا کے کناروں تک پھیلنا ہے۔اور پھیل رہا ہے۔پس ہماری تبلیغ تو ایک معمولی کوشش ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اسلام نے غالب آنا ہے۔انشاء اللہ۔اور انشاء اللہ آکر رہے گا۔لیکن محبت اور پیار کے پیغام سے اور دعاؤں سے۔یہی کام ہمارے ذمہ لگایا گیا ہے۔باقی خدائی تقدیر کس طرح فیصلہ کرے گی یا کر رہی ہے یہ جو سب زلزلے، طوفان ، تباہیاں ہیں یہی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا ایک چکر چل رہا ہے۔غلبہ انشاء اللہ تعالیٰ اسلام کا ہے اور خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ دکھانا ہے۔کاش کہ مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کی اس تقدیر کا حصہ بننے کے لئے آپ کی جماعت کا حصہ بنیں اور آپ کے مددگار بنیں اور مخالفتیں ترک کر دیں۔اس زمانے میں بھی جو آفات آرہی ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں ہیں۔آفات میں غریب کیوں مارے جاتے ہیں؟ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ مخالفتیں تو ائمۃ الکفر کر رہے ہیں یا بڑے بڑے لوگ کر رہے ہیں اور آفات سے ہم بیچارے غریب مارے جاتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے ؟۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جواب دیا ہوا ہے آپ کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : غرض عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کسی صادق کی حد سے زیادہ تکذیب کی جائے یا اس کو ستایا جائے تو دنیا میں طرح طرح کی بلائیں آتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی تمام کتابیں یہی بیان فرماتی ہیں اور قرآن شریف بھی یہی فرماتا ہے۔جیسا کہ حضرت موسیٰ کی تکذیب کی وجہ سے مصر کے ملک پر طرح طرح کی آفات نازل ہوئیں۔