خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 106

خطبات مسرور جلد ہشتم 106 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 خاطر دستِ شفقت پھیرا۔اس کے لئے ہر بال کے عوض، جس پر اس کا مشفق ہاتھ پھرے، نیکیاں شمار ہوں گی۔اور جس شخص نے زیر کفالت یتیم بچے یا بچی سے احسان کا معاملہ کیا وہ اور میں جنت میں یوں ہوں گے۔آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر دکھائیں۔(مسند احمد بن حنبل مسند ابو امامتة البابلی جلد 7 صفحہ 425-426 حدیث : 22640) پس یتیم کی پرورش کرنے والے کا یہ مقام ہے کہ آنحضرت صلی ال یہی ہم نے اسے جنت کی خوشخبری دی ہے۔اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر نے والے کو ، اس کا خیال رکھنے والے کی نیکیوں کو اس بچے کے سر کے بالوں کے برابر شمار کیا ہے۔آنحضرت صلی نیلم کے صحابہ تو اس بات پر لڑتے تھے اور حریص رہتے تھے کہ یتیم کی پرورش کریں۔اور اگر کوئی یتیم ہو تا تو ایک کہتا کہ میں اس کی پرورش کروں گا اور دوسرا کہتا کہ میں اس کی پر ورش کروں گا۔تیسرا کہتا کہ میں اس کی پرورش کروں گا۔اور اس بات پر وہ لوگ حریص تھے کہ جنت میں بھی آنحضرت صلی ای ایم کے قدموں میں جگہ ملے۔وہ جب یتیموں کو پالتے تھے تو بڑے احسن رنگ میں ان کی تربیت کرتے تھے۔اپنے بچوں کی طرح ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھتے تھے۔پھر یہ کہہ کر وَإِن تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمُ (البقرة:221) کہ اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔یتیموں کو پالنے والوں کو بڑا بھائی کہہ دیا کہ وہ ان بڑے بھائیوں کی طرح چھوٹے بھائی کی ذمہ داری ادا کرے جو حقیقت میں چھوٹے بھائیوں کا حق ادا کرنے والے ہیں۔بعض بڑے بھائی بھی چھوٹے بھائیوں پر ظلم کرتے ہوتے ہیں۔فرمایا کہ بڑا بھائی بن کر ان کا حق ادا کرو۔بلکہ اگر وہ ضرورت مند ہیں تو تعلیم و تربیت کے بعد ان کے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے ہر طرح کی مدد کرو۔اگر تمہارے پاس مالی وسائل ہیں اور ان کی مالی مدد بھی کی جاسکتی ہے تو کرو۔ان کی کاروباروں میں یا اور کسی لحاظ سے مدد کرنی پڑے تو کرو۔اس طرح کرو جس طرح بڑے بھائی چھوٹے بھائیوں کی کرتے ہیں۔اور بے نفس ہو کر یہ خدمت کرو۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر اپنی ذات کے ہر جگہ موجود ہونے کا احساس دلا دیا کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔پس ان یتیموں سے انہیں معاشرے کا بہترین حصہ بنانے کے لئے حسن سلوک کرو۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جو ضرورت مند ایسے ہیں کہ یتیم کی صحیح طرح کفالت نہیں کر سکتے ان کو اجازت دے دی کہ اگر یتیم کا مال ہے تو ان کی ضرورت کے مطابق اس میں سے خرچ کر لو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔یہاں یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اگر پالنے والے کے یا اس نگر ان کے اپنے وسائل نہ ہوں اور یتیم کا مال بھی نہ ہو تو پھر کیا کیا جائے؟ اللہ تعالیٰ چونکہ جانتا تھا کہ نیک خواہشات کے باوجود تم کچھ نہیں کر سکتے اسی لئے تمہیں "تم اپنے آپ کو مشکل میں نہ ڈالو کہہ کر اجازت دے دی کہ جماعتی نظام سے رجوع کرو۔جو ارباب حل و عقد ہیں