خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 93
خطبات مسرور جلد ہشتم 93 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 ہوں، غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں نے بھی آپ کی مخالفت کی۔چاہئے تو یہ تھا کہ آنحضرت صلی للی نیم جو دنیا کی بھلائی کے لئے پیغام لائے تھے۔اس کو ماننے والے آپ صلی علیہ ظلم کی پیشگوئیوں کے پورا کرنے کے مصداق بنے۔زمانہ کے امام کو بھی سلام پہنچاتے اور ان نیکیوں کو پھیلانے میں زمانہ کے امام کی مدد کرتے جو آنحضرت نے قائم فرمائے اور اسلام کے غلبہ کے دن قریب لانے میں مدد گار بنے۔لیکن اس کی بجائے ، اس کے بالکل بر عکس نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر قرآن کے حکموں کو عامتہ المسلمین بالکل بھول گئے اور آنحضرت ملی ایم کے حکم کو بھی بھول گئے۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ نہ صرف بھول گئے بلکہ سلامتی کے مقابلے میں شدت پسندی کا مظاہرہ کیا۔حضرت مسیح موعود کے اس پیغام کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ کس طرح آپ کے اندر درد تھا۔آپ کس طرح لوگوں کی خیر سگالی اور لوگوں کی ہمدردی چاہتے تھے۔آپ فرماتے ہیں:۔آج میں نے اتمام حجت کے لئے یہ ارادہ کیا ہے کہ مخالفین اور منکرین کی دعوت میں چالیس اشتہار شائع کروں تا قیامت کو میری طرف سے حضرت احدیت میں یہ حجت ہو کہ میں جس امر کے لئے بھیجا گیا تھا اس کو میں نے پورا کیا۔سو اب میں بکمال ادب و انکسار، حضرات علما مسلمانان و علما عیسائیاں و پنڈتاں ہندوان و آریان یہ اشتہار بھیجتا ہوں اور اطلاع دیتا ہوں کہ میں اخلاقی و اعتقادی و ایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں۔اور میر اقدم حضرت عیسی علیہ السلام کے قدم پر ہے۔انہی معنوں سے میں مسیح موعود کہلا تا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ محض فوق العادت نشانوں اور پاک تعلیم کے ذریعہ سے سچائی کو دنیا میں پھیلاؤں۔میں اس بات کا مخالف ہوں کہ دین کے لئے تلوار اٹھائی جائے اور مذہب کے لئے خدا کے بندوں کے خون کئے جائیں۔اور میں مامور ہوں کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے ان تمام غلطیوں کو مسلمانوں میں سے دور کر دوں اور پاک اخلاق اور بُردباری اور حلم اور انصاف اور راست بازی کی راہوں کی طرف اُن کو بلاؤں۔میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔میں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہو تا ہے۔انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بد عملی اور نا انصافی اور بد اخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔میری ہمدردی کے جوش کا اصل محرک یہ ہے کہ میں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے۔اور مجھے جواہرات کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیر ااس کان سے ملا ہے اور اس کی اس قدر قیمت ہے کہ اگر میں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم کروں تو سب کے سب اس