خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 92

خطبات مسرور جلد ہشتم 92 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 اس پر کیوں اتنازور ہے ؟ اس لئے کہ مومن ایک دوسرے کے امن کی ضمانت ہے۔اگر مسلمان غور کریں تو اسلام کی امن قائم کرنے والی تعلیمات میں سے یہی ایک حکم ہی امن، پیار اور محبت کی ضمانت بن جاتا ہے۔لیکن بد قسمتی سے اللہ تعالیٰ کے حکموں کو بھول کر مسلمان ہی مسلمانوں کی گردنیں کاٹ رہے ہیں۔صحابہ اس کا کس طرح خیال رکھا کرتے تھے۔ایک دن ایک صحابی دوسرے صحابی کے پاس آئے اور کہا آؤ بازار چلیں۔بازار گئے اور چکر کاٹ کر لوگوں کو مل کر واپس آگئے۔کچھ خریدا نہیں۔چند دنوں بعد پھر پہلے والے صحابی دوسرے صحابی کے پاس آئے کہ چلو بازار چلیں۔انہوں نے کہا کہ اگر تو کچھ خریدنا ہے تو پھر تو جاؤ اور اگر پچھلی دفعہ کی طرح تم نے چکر کاٹ کر ہی واپس آنا ہے تو اس کا فائدہ کیا ؟ تو پہلے صحابی نے جواب دیا کہ میں تو اس لئے جاتا ہوں کہ بازاروں میں دوسروں کو سلام کروں ان کو دعائیں دوں اور ان سے دعائیں لوں۔اور سلام کو رواج دینے اور پھیلانے کے حکم پر عمل کروں۔المؤطا۔کتاب السلام باب جامع السلام حدیث 1793) تو یہ تھا صحابہ کا حال کہ چھوٹے چھوٹے حکموں پر ایک فکر سے عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔احمدیوں کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے اور بڑھ کر جواب دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور یہی چیز ہے جو ہمارے اندر بھی ہمارے معاشرے میں بھی امن اور پیار کی فضا پیدا کرے گی۔ایک دوسرے کے جذبات کی طرف توجہ دلائے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تمہارے خیر سگالی کے جذبات اور امن کا پیغام پہنچانے کے اس عمل کی جزا دے گا۔یہ ایسی چیز ہے جس کی تمہیں جزا ملے گی۔اگر محبت سے بڑھے ہوئے ہاتھ کو پکڑو گے ، اگر دعاؤں کا جواب دعاؤں سے دو گے تو جزا پاؤ گے۔اگر اس کو رڈ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہو گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کا حساب لوں گا۔سلامتی اور امن کی ضمانت اس زمانہ میں اب اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہم دیکھتے ہیں۔سلامتی اور امن کی ضمانت بن کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے۔آپ نے دنیا کی سلامتی اور حقیقی عمل کے لئے، دنیا کی خیر سگالی کے لئے بڑے درد سے اپنے لٹریچر میں اپنی کتب میں پیغام دیا ہے۔لیکن عموماً د نیانے ، جس میں مسلمان بھی ایک بڑی تعداد میں شامل ہیں، اس کا نہ صرف جواب نہیں دیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف بجائے اچھا تحفہ لوٹانے کے دشنام طرازیوں اور گالیوں سے بھر پور وار آپ کی ذات پر کئے۔باوجود آپ کے یہ کہنے کے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور تمہاری بھلائی کے لئے بھیجا گیا ہوں، تمہیں خدا تعالیٰ سے ملانے کے لئے بھیجا گیا