خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 52

52 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم سفارش کی کہ یہ غیر مقلد مولویوں میں ایک نامی شخص ہے اس کو کرسی ملنی چاہئے مگر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے اس سفارش کو منظور نہ کیا۔غالبا محمد حسین کو اس امر کی خبر نہ تھی کہ اس کی کرسی کے لئے پہلے تذکرہ ہو چکا ہے اور کرسی کی درخواست نامنظور ہو چکی ہے اس لئے جب وہ گواہی کے لئے اندر بلایا گیا تو جیسا کہ خشک ملا جاه طلب اور خود نما ہوتے ہیں۔آتے ہی بڑی شوخی سے اس نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے کرسی طلب کی۔صاحب موصوف نے فرمایا کہ تجھے عدالت میں کرسی نہیں ملتی اس لئے ہم کرسی نہیں دے سکتے۔پھر اس نے دوبارہ کرسی کی لالچ میں بے خود ہو کر عرض کہ مجھے کرسی ملتی ہے اور میرے باپ رحیم بخش کو بھی کرسی ملتی تھی۔صاحب بہادر نے فرمایا کہ تو جھوٹا ہے۔نہ تجھے کرسی ملتی ہے، نہ تیرے باپ رحیم بخش کوملتی تھی۔ہمارے پاس تمہاری کرسی کے لئے کوئی تحریر نہیں۔تب محمد حسین نے کہا کہ میرے پاس چٹھیات ہیں۔لاٹ صاحب مجھے کرسی دیتے ہیں۔یہ جھوٹی بات سن کر صاحب بہادر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ” بک بک مت کر پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا۔اُس وقت مجھے بھی محمد حسین پر رحم آیا کیونکہ اس کی موت کی سی حالت ہو گئی تھی۔اگر بدن کا ٹو تو شاید ایک قطرہ لہو کا نہ ہو اور وہ ذلت پہنچی کہ مجھے تمام عمر میں اس کی نظیر یاد نہیں۔پس بیچارہ غریب اور خاموش اور ترسان اور لرزان ہو کر پیچھے ہٹ گیا اور سیدھا کھڑا ہو گیا اور پہلے میز کی طرف جھکا ہوا تھا۔تب فی الفور مجھے خدا تعالیٰ کا یہ الہام یاد آیا کہ انسى مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَكَ یعنی میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت چاہتا ہے۔یہ خدا کے منہ کی باتیں ہیں۔مبارک وہ جوان پر غور کرتے ہیں۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 29-30) اس کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور الہام بھی ہے۔اِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِنِينَ اس کا بھی خوب نظارہ یہاں نظر آتا ہے۔وہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اہانت کی خواہش رکھتا تھا۔وہ جو اس مقدمے کے فیصلے کے بعد آپ کی سبکی دیکھنا چاہتا تھا اور استہزاء کا موقع تلاش کرنا چاہتا تھا، وہ خود اس بات کا نشانہ بن گیا۔تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کی تائیدات۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایک واقعہ ہے جب آپ نے براہین احمدیہ شائع کی ، اس وقت مختلف لوگوں کو اس کی اعانت کے لئے خطوط لکھے تو نواب صدیق حسن خان صاحب جو بڑے عالم تھے اُن کو بھی لکھا۔بھوپال کے رہنے والے تھے اور انہوں نے دین کا علم علماء یمن اور ہندوستان سے حاصل کیا ہوا تھا۔پھر ریاست بھوپال کی ملازمت اختیار کر لی اور ترقی کرتے کرتے وزارت اور نیابت تک فائز ہو گئے۔پھر ان کا نکاح اور شادی والی ریاست نواب شاہجہاں بیگم سے ہو گئی۔پھر پوری ریاست کی باگ ڈور اور حکومت ان کے ہاتھ میں آ گئی۔حکومت برطانیہ نے اس زمانہ میں انہیں نواب والا جاہ اور امیر الملک اور معتمد المہام کے خطابات سے نوازا تھا۔