خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 578
578 خطبه جمعه فرموده 11 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم عملی صراط مستقیم یہ ہے جو اس کی طاعت اخلاص سے بجالانا اور طاعت میں اس کا کوئی شریک نہ کرنا “۔(اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان پر پوری طرح عمل کرنا اور طاعت کے معاملہ میں اس کا کوئی شریکنہ ٹھہرانا۔یعنی اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان کے مقابلے پہ کوئی چیز نہیں ہونی چاہئے )۔” اور اپنی بہبودی کے لئے اسی سے دعا مانگنا اور اسی پر نظر رکھنا اور اسی کی محبت میں کھوئے جانا یہ عملی صراط مستقیم ہے کیونکہ یہی حق ہے“۔پھر آپ فرماتے ہیں اور حق العباد میں علمی صراط مستقیم یہ جو ان کو اپنا بنی نوع خیال کرنا اور ان کو بندگان خدا سمجھنا اور بالکل بیچ اور نا چیز خیال کرنا کیونکہ معرفت حقہ مخلوق کی نسبت یہی ہے جو ان کا وجود بیچ اور نا چیز ہے اور سب فانی ہیں۔( علمی صراط مستقیم یہی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سمجھنا اور اس کو کسی رنگ میں بھی خدا تعالیٰ کے مقابلہ پر کوئی فوقیت نہ دینا )۔فرمایا " یہ توحید علمی ہے کیونکہ اس سے عظمت ایک کی ذات کی نکلتی ہے کہ جس میں کوئی نقصان نہیں اور اپنی ذات میں کامل ہے“۔( یہ چیز پیدا ہوگی تو تبھی اللہ تعالیٰ کی عظمت قائم ہوگی جو کامل ذات ہے )۔پھر فرمایا کہ اور عملی صراط مستقیم یہ ہے (کہ) حقیقی نیکی بجا لانا۔یعنی وہ امر جو حقیقت میں ان کے حق میں اصلح اور راست ہے بجالانا۔یہ توحید عملی ہے کیونکہ موحد کی اس میں یہ غرض ہوتی ہے کہ اس کے اخلاق سراسر خدا کے اخلاق میں فانی ہوں“۔(اس کی تھوڑی سی وضاحت کردوں۔یعنی عملی صراط مستقیم جو ہے وہ یہی ہے کہ ہر کام کرتے ہوئے یہ دیکھنا کہ میرا کام ان اخلاق پر قائم ہو جو خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ میرے رنگ میں رنگین ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر لاگو کرنے کی کوشش کرنا اور تبھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان حقیقی نیکی بجا لایا ہے اور وہ صحیح راستے پر چل رہا ہے )۔اور حق النفس میں علمی صراط مستقیم یہ ہے کہ جو جو نفس میں آفات پیدا ہوتے ہیں جیسے عجب اور دریا اور تکبر ” اور حقد اور حسد “۔( حقد کہتے ہیں کینے کو )۔اور غرور اور حرص اور بخل اور غفلت اور ظلم اُن سب سے مطلع ہونا اور جیسے وہ حقیقت میں اخلاق رذیلہ ہیں ویسا ہی ان کو اخلاق رذیلہ جاننا۔یہ علمی صراط مستقیم ہے۔( نفس کا جو حق ہے اس کا صراط مستقیم یہ ہے کہ تمام برائیاں جن کے بارہ میں بتایا گیا ہے ان کو انتہائی گھٹیا چیزیں اور گناہ سمجھنا تبھی انسان صراط مستقیم پر چل سکتا ہے )۔اور یہ توحید علمی ہے کیونکہ اس سے عظمت ایک ہی ذات کی نکلتی ہے کہ جس میں کوئی عیب نہیں اور اپنی ذات میں قدوس ہے“۔پھر فرماتے ہیں کہ اور حق النفس میں عملی صراط مستقیم یہ ہے جونفس سے ان اخلاق رذیلہ کا قلع قمع کرنا اور صفت یہ تخلّى عن رذائل اور تحلّى بالفضائل سے متصف ہونا “۔( کہ حق النفس کا جوصراط مستقیم کا عملی حصہ ہے وہ ہے کہ جتنے اخلاق رذیلہ ہیں ، گھٹیا قسم کے اخلاق ہیں، برائیاں ہیں ان کو اپنے سے پاک کرنا۔خالی کرنا اور صرف خالی نہیں کرنا بلکہ جو نیکیاں ہیں ان سے اپنے آپ کو پر کرنا۔صرف برتن برائیوں سے خالی نہیں کرنا بلکہ اس برتن کو