خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 574
574 خطبه جمعه فرموده 11 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان دونوں باتوں کو یعنی نور محمد نے اور نور قر آن کریم کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان فرمایا ہے۔اس شعر سے دونوں مطلب نکلتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا نور بھی اور قرآن کریم بھی جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے کہ۔نور لائے آسماں خود بھی اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا وہ ہوئے کیا جائے عار براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 144 دشمن اعتراض کرتا ہے کہ ایک ان پڑھ اور وحشی قوم کا شخص آخری پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔جو خود بھی اتمی ہے پڑھا لکھا نہیں۔فرمایا یہ تو کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔یہ بات تو آپ کے مقام کو بڑھارہی ہے کہ آسمان سے وہ کامل نور لے کر آئے جس نے وحشیوں کو انسان اور انسانوں کو با اخلاق اور باخدا انسان بنا دیا۔اس وحشی قوم نے جب اس ٹور سے حصہ پایا اور قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کیا تو دنیا کی سب سے زیادہ مہذب قوم بن گئی۔اور ان لوگوں نے تو جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے اور کتاب سے یہ ٹور پایا ، انہوں نے تو ہزار سال پہلے اپنی علمیت کا سکہ منوالیا تھا۔یورپ جو آج علم کی روشنی کا اظہار کر رہا ہے، یورپ نے ان سے علوم سیکھے تھے۔پس صرف روحانی نور نہیں بلکہ دنیاوی ترقیات کے لئے بھی وہ لوگ جو تھے روشنی کا مینار بن گئے۔پس آج مسلمانوں کو غور کی ضرورت ہے کہ وہ ٹور جس نے تمام دنیا کو روشن کیا، کیا دنیاوی علوم کے لحاظ سے اور کیا روحانی علوم کے لحاظ سے، وہ نورکیوں ان کے اندر سے نکل کر نہیں پھیل رہا جس کے لئے آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تھے اور اپنے ماننے والوں میں وہ نُور پیدا کیا تھا۔اللہ ، رسول اور قرآن کی پیروی کا دعوی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ نو ر نظر نہیں آ رہا۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں جس شخص نے اس ٹو کا حقیقی پر تو بنا تھا اس کا انکار ہے۔لیکن ساتھ ہی احمدیوں کے لئے بھی سوچنے کا اور فکر کرنے کا مقام ہے کہ منہ سے مانے کا دعوی کر کے نور سے حصہ نہیں مل جاتا۔اس قرآنی نور سے حصہ لینے کے لئے اس انسان کامل کے عاشق صادق کی بیان کردہ تعلیم اور قرآنی تفسیر پر غور کرنا اور اس کو اپنے اوپر لاگو کرنا بھی ضروری ہے۔دنیا میں ڈوب کر روشنی تلاش نہ کریں۔بلکہ قرآن کریم میں ڈوب کر حکمت کے موتی تلاش کرنا ہر ایک احمدی کا فرض ہے اور دنیا کو حقیقی روشنی سے روشناس کروانا ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پنے ایک عربی شعری کلام میں آنحضرت ﷺ کے ٹو ر کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ نُوْرٌ مِّنَ اللَّهِ الَّذِى اَحْيَا الْعُلُوْمَ تَجَدُّدَا المُصْطَفَى وَالْمُجْتَبَى وَالْمُقْتَدى وَالْمُجْتَدَى کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 70)