خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 571
571 خطبہ جمعہ فرموده 11 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں فرمایا کہ اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالاَرضِ۔تو اس کا کیا مطلب ہے۔اس کا مفسرین نے یہ جواب دیا ہے کہ نور کے اور بھی کئی معنی ہیں اور یہ نور جو ہے یہ ضیاء کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَسِرَاجًا مُنِيرًا ( الاحزاب : 47 ) کہ وہ روشن سورج ہے۔یعنی آپ کے ٹور سے دوسرے لوگ روشن ہوں گے جبکہ آپ کا نور بھی اللہ تعالیٰ کے نور سے ہے۔نیز لغت والے یہ بھی لکھتے ہیں کہ تو رضیاء کی روشنی کو بھی کہتے ہیں ، ضیاء کی شعاع کو بھی کہتے ہیں یعنی جو چیز اپنی ذات میں روشن ہے اس روشنی کے انعکاس کو بھی نور کہتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے نور کی شعاعوں کا جو انعکاس ہے یا خدا تعالیٰ کا جو انعکاس ہے یہی ہمیں مادی اور روحانی زندگی میں نظر آتا ہے۔کائنات کا حقیقی ادراک اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ٹور سے اُسے دیکھیں۔کیونکہ نُور ہر اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے دوسری چیز میں نظر آنے لگیں۔پس خدا تعالیٰ کی ذات میں ڈوب کر ظاہری آنکھ سے بھی اس نور کا حقیقی رنگ میں ادراک ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے ظاہر کیا ہے اور انسانوں کے لئے مسخر کیا ہے۔سورج بھی اور چاند بھی اور کائنات کی ہر چیز بھی اُسی طرح حقیقی طور پر نظر آ سکتی ہے جب اُسے اللہ تعالیٰ کے نور کے سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے۔لیکن اگر کسی دہریہ کو ان چیزوں میں خدا نظر نہیں آتا جبکہ مومن کو تو ہر چیز میں خدا نظر آتا ہے اور وہ ان چیزوں سے فیض بھی پا رہا ہے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہے اور پھر بعض دفعہ ان کی یا سائنسدانوں کی کوششیں بھی اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کے جلوے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس کائنات کی چیزوں کا ایک حد تک علم حاصل ہو رہا ہے اور چاند اور سورج اور دوسرے ستاروں کے دنیاوی فائدے ایک دہر یہ اٹھا رہا ہے۔جبکہ مذہب کی دنیا میں رہنے والا اور ایک حقیقی مومن جسے نور قرآن بھی دیا گیا ہے اس سے روحانی اور مادی دونوں طرح کے فائدے اٹھاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بعض جگہ دونوں ٹوروں کا ایک ہی جگہ ذکر بھی فرمایا ہے تا کہ دنیاوی کاموں میں بھی راہنمائی ملے اور روحانی کاموں کی طرف بھی توجہ پیدا ہو۔پھر ٹو راخروی کے متعلق مفردات میں آتا ہے کہ ٹور اخروی کیا چیز ہے۔اس کے بارہ میں انہوں نے اس آیت کو سامنے رکھا ہے کہ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا (التحريم: 9) اُن کا نور ان کے آگے اور داہنی طرف روشنی کرتا ہوا چل رہا ہو گا اور وہ خدا سے التجا کریں گے کہ اے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کر دے۔یہ وہ اخروی نور ہے جو ان کو مرنے کے بعد نظر آئے گا۔بہر حال یہ تھوڑا سا بیان پچھلے خطبہ میں رہ گیا تھا۔اس لئے میں نے اس کی وضاحت کر دی۔اب میں ان آیات کی وضاحت کروں گا جن کا بیان میں گزشتہ خطبہ میں کر چکا ہوں لیکن ان کی وضاحت نہیں ہوئی تھی۔یہ سورۃ مائدہ کی آیات ہیں اور ان کا ایک حصہ پڑھ چکا ہوں۔