خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 570
خطبات مسرور جلد ہفتم 570 (50 خطبہ جمعہ فرموده 11 دسمبر 2009 فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2009ء بمطابق 11 فتح 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت نور کے حوالے سے مختلف لغوی معنی بیان کرنے کے بعد اہل لغت نے اپنی وضاحتوں کے لئے جو آیات قرآنیہ درج کی ہیں ان میں سے چند آیات کے کچھ حصے پیش کئے تھے اور سورۃ نور کی آیت اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ( النور : 36) کے حوالے سے کچھ وضاحت کی تھی۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اہل لغت نے اپنے بیان کردہ مختلف معانی کو ثابت کرنے کے لئے آیات کے حوالے دیئے ہیں۔آج کے خطبہ میں ان میں سے ایک دو آیات کی وضاحت کروں گا جن کا حوالہ گزشتہ خطبہ میں دے چکا ہوں۔میں نے بتایا تھا کہ ٹور پھیلنے والی روشنی کو بھی کہتے ہیں اور یہ ٹور بھی دو قسم کا ہے یعنی یہ روشنی جو پھیلتی ہے مفسرین کے نزدیک آگے اس کی پھر دو قسمیں ہیں۔ایک دنیوی نور ہے اور دوسرا اُخروی نور ہے۔اور دنیوی نور پھر دو قسم کا ہے ایک ٹور کی قسم وہ ہے جس کا ادراک بصیرت کی نگاہ سے ہوتا ہے اس کا نام انہوں نے معقول رکھا ہے یعنی یقین اور عقل اور دانائی کی وجہ سے یہ ٹور ملتا ہے اور الہی امور میں یہ نور عقل اور نور قرآن ہے۔اور دوسرا وہ نور ہے جس کو جسمانی آنکھ کے ذریعہ محسوس کیا جاتا ہے۔اس کو محسوس کہتے ہیں۔جیسے وہ ٹور جو چاند اور سورج اور ستاروں اور دیگر روشن اجسام میں پایا جاتا ہے۔نورالہی کی مثال میں مفردات کے حوالے سے میں نے سورۃ مائدہ کی آیت اور سورۃ انعام کی آیات کا حوالہ دیا۔تھا۔جس کی تفصیل میں نے بیان نہیں کی تھی۔بہر حال جسمانی آنکھ کی جس کے ذریعہ دیکھنے والے نور کی مثال مفردات نے سورۃ یونس کی آیت نمبر 6 کی دی ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاء وَالْقَمَرَ نُورًا (یونس: 6) یعنی وہی ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے۔یہاں بعض کو شاید یہ الجھن ہو کہ سورج کے لئے ضیاء اور چاند کے لئے نور کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اس لئے ضیاء جو ہے وہ زیادہ روشن چیز ہے اور ٹور کم روشن ہے۔اہل لغت بھی یہی لکھتے ہیں کہ ضیاء روشن چیز کو کہتے ہیں اور نور کم روشن کو۔ضیاء نور کے مقابلے پر زیادہ طاقتور ہے۔اپنی ذات میں جو روشنی ہوتی ہے اس کو ضیاء اور ضوء کہتے ہیں اور نور کا لفظ عمومی طور پر اس وقت بولا جاتا ہے یا استعمال کیا جاتا ہے جب کسی غیر سے روشنی لیتی ہے۔