خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 561
خطبات مسرور جلد ہفتم 561 (49) خطبہ جمعہ فرموده 4 دسمبر 2009 فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2009ء بمطابق 04 فتح 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّوْرِ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا اَوْلِيَتُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمتِ۔أُولَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة: 258) یہ آیت جومیں نے تلاوت کی ہے اس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ولی ہے جو ایمان لانے والے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ ولی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے۔اس آیت کا پہلے بھی کسی خطبے میں ذکر ہو چکا ہے لیکن وہاں لفظ ولی اور اللہ تعالیٰ کی صفت ولی کے حوالے سے یہ ذکر ہوا تھا۔لیکن آج میں اللہ تعالیٰ کی جو صفت نُور ہے یا لفظ تُو رہے اس کے حوالے سے بات کروں گا۔لغات میں لکھا ہے کہ تُو راللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ میں سے ایک صفت ہے اور النور ابن اثیر کے نزدیک وہ ذات ہے جس کے ٹور کے ذریعہ جسمانی اندھا دیکھتا ہے اور گمراہ شخص اس کی دی ہوئی سمجھ سے ہدایت پاتا ہے۔یہ معنے لسان العرب میں لکھے ہیں۔پھر اسی طرح لسان میں دوبارہ لکھا ہے کہ بعض کے نزدیک نور سے مراد وہ ذات ہے جو خود ظاہر ہے اور جس کے ذریعے سے ہی تمام اشیاء کا ظہور ہو رہا ہے۔اور بعض کے نزدیک ٹور سے مراد وہ ہستی ہے جو اپنی ذات میں ظاہر ہے اور دوسروں کے لئے بات کو ظاہر کرتی ہے۔پھر لسان میں لکھا ہے، ابومنصور کہتے ہیں کہ ” نُورُ اللهِ " نور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ آپ فرماتا ہے اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ( النور : 36)۔اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے بعض کا خیال ہے کہ اس کے معنی ہیں کہ اللہ ہی ہے جو آسمان میں رہنے والوں اور زمین میں رہنے والوں کو ہدایت دینے والا ہے۔اور بعض کے نزدیک مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاح ( النور : 36) کا مطلب ہے کہ مومن کے دل میں اس کی ہدایت کے نور کی مثال طاق میں رکھے ہوئے چراغ کی سی ہے۔النور اس پھیلنے والی روشنی کو کہتے ہیں جو اشیاء کے دیکھنے میں مدد دیتی ہے اور یہ دو قسم کی ہوتی ہے۔دنیوی اور اخروی۔پھر کہتے ہیں دنیوی ٹور پھر دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک وہ نور جس کا ادراک بصیرت کی نگاہ سے ہوتا ہے اور یہ وہ نور