خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 555 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 555

555 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم شب قبر میں ڈالا جائے گا۔چنانچہ میں نے بیدار ہوتے ہی قلم اور دوات منگوائی اور الہام الہی کاغذ پر لکھا اور اسی گاؤں کے بعض غیر احمد یوں میں دے دیا اور انہیں تلقین کی کہ اس پیشگوئی کو تعین موت کے عرصہ سے پہلے ظاہر نہ کریں۔اس کے بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں قادیان چلا آیا اور یہیں رمضان مبارک کا مہینہ گزارا۔خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جب جان محمد بظاہر صحت یاب ہو گیا اور جابجا اس معجزہ کا چرچا ہونے لگا تو اس مرض نے دوبارہ حملہ کیا اور وہ ٹھیک شعبان کی 29 ویں رات اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔اس کے مرنے کے بعد غیر احمدیوں نے میری تحریر لوگوں کے سامنے رکھی کہ ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔مگر افسوس اس کے بعد بھی اس کو دیکھ کر بھی اس کے عزیز رشتہ دار اور گاؤں والے احمدی نہیں ہوئے۔(ماخوذ از حیات قدی حصہ اول صفحہ 28-27 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کود یکھ لو کہ انہیں جوضرورت ہو اس وقت پوری ہو جاتی ہے اور کوئی روک یا دیر نہیں ہوتی۔ان سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب تمہیں ضرورت ہو ہم دیں گے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے سامنے ایک آدمی آیا۔اس نے دو سو روپے بطور امانت دوسال کے لئے دیا اور کہا کہ میں دو سال کے بعد آ کے آپ سے لے لوں گا۔۔۔ایک شخص جس نے جناب سے ایک سورو پیہ قرض مانگا ہوا تھا وہ پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔دوسرا آدمی جس نے حضرت خلیفتہ المسیح الاول سے سو روپیہ قرض مانگا تھا تو پاس بیٹھا ہوا تھا۔آپ نے اس دوسور و پیہ میں سے ایک سورو پیدا اسے دیا اور رسید دے کر اس تھیلی میں رکھ دی جس میں بقایا رقم تھی اور روپوں کی تھیلی گھر بھجوا دی۔تھوڑی دیر کے بعد وہی امانت رکھوانے والا دوبارہ واپس آیا اور کہا کہ میرا ارادہ بدل گیا ہے وہ روپیہ مجھے ابھی دے دیں۔دو سال کی مدت نہیں۔فرمایا کب جاؤ گے، کہیں باہر جانا تھا اس نے ، اس نے کہا کہ ایک گھنٹے تک۔آپ نے فرمایا کہ اچھا پھر ایک گھنٹہ کے بعد آ کر لے جانا۔جب وہ وقت پر پہنچا، آپ کے پاس بیٹھا ہی تھا تو آپ نے فرمایا کہ دیکھو انسان پر بھروسہ کرنا کیسی غلطی ہے۔میں نے غلطی کی خدا نے بتلا دیا کہ تم نے غلطی کی ہے۔اب دیکھو میرا مولیٰ میری کیسی مدد کرتا ہے۔وہ ایک سور و پیہ اس کے آنے سے پہلے ایک گھنٹے کے اندراندر آپ کو مل گیا کسی اور ذریعہ سے اور آپ نے اسے دے دیا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه 556-555 مطبوعه ربوہ ) قاضی عبدالرحیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ اہلیہ چراغ دین جمونی کی تذلیل کے واقعہ کے قریباً ایک سال بعد یہ واقعہ ہوا کہ خاکسار عام طور پر ، ( پہلا واقعہ ہے اس کے بعد یہ واقعہ ہے ) کہتے ہیں کہ خاکسار عام طور پر عشاء کے بعد اپنے مکان کے آگے محلے والوں کو تبلیغ کیا کرتا تھا اور ایک مجلس لگ جایا کرتی تھی۔ایک دن ایک ہندو جو پر لے درجے کا منفتن تھا اس نے ایک ایسی بات کہی جس کے جواب میں مجھے حضرت مسیح موعود کی صداقت کی مثال کسی نبی