خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 548
548 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم جب اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مسیح محمدی کو بھیجا تو اللہ تعالیٰ کی اس دوستی، مدد اور ولی ہونے کی نئی مثالیں بھی ہم نے اس زمانے میں دیکھیں، ایمان میں ترقی کے نظارے نظر آنے لگے۔بہر حال اس وقت میں اسی حوالے سے بعض واقعات بیان کروں گا جو پہلے تو آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی زندگی کے واقعات ہیں۔اس کے بعد پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے بھی۔جن سے اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں کے ساتھ تعلق اور ان کے لئے غیرت رکھنے پر روشنی پڑتی ہے کہ کس طرح ان کی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ ان کا مددگار بنتا ہے اور اُن کے مرنے کے بعد بھی۔اُن کی ذات پر دنیا کے حملوں سے انہیں بچاتا ہے۔اگر کسی نے کوئی دعا کی تو اس کو صرف اس کی زندگی تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ ان کی خواہش کو جس کے لئے دعا کی گئی تھی مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے پورا فرمایا۔پہلی جو مثال میں نے لی ہے، واقعہ جو میں نے لیا ہے وہ آنحضرت ﷺ کے صحابی حضرت زبیر کا ہے۔حضرت عبداللہ بن زبیر جو حضرت زبیر کے بیٹے تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے روز میں حضرت زبیر کے پہلو میں کھڑا تھا۔آپ نے فرمایا اے میرے بیٹے ! آج کے دن یا تو کوئی ظالم قتل ہوگا یا کوئی مظلوم ، دو طرح کے لوگ آج قتل ہونے والے ہیں۔یا ایک ظالم یا مظلوم۔اور یقینا میں دیکھ رہا ہوں کہ میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا۔میرا سب سے بڑا مسئلہ میرا قرض ہے۔کیا تو دیکھتا ہے کہ قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے مال میں سے کچھ بچے گا ؟ پھر آپ نے کہا اے میرے بیٹے ! ہمارے مال کو بیچ کر میرا قرض ادا کر دینا۔ان کی عرب کے مختلف شہروں میں جائیدادیں تھیں۔اس لئے انہوں نے کہا کہ میرا قرض جو ہو تم جائیدادوں کو بیچ کر ادا کر دینا اور آپ نے تیسرے حصے کی وصیت کی اور تین میں سے تیسرے حصے کی وصیت اپنے بیٹے یعنی حضرت عبد اللہ بن زبیر کے حق میں کی۔پھر کہا کہ قرض کی ادائیگی کے بعد اگر ہمارے مال میں سے کچھ بیچ رہے تو تیرے بیٹے کے لئے بھی تیسرا حصہ ہے۔عبداللہ ابن زبیر نے کہا کہ وہ مجھے قرض کی ادائیگی کے لئے کہتے رہے۔پھر کہا کہ اے میرے بیٹے ! اگر تو قرض ادا کرنے سے رہ جائے تو میرے مولیٰ سے مدد طلب کرنا۔عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نہ سمجھا کہ آپ کی اس سے کیا مراد ہے۔میں نے عرض کیا کہ اے میرے باپ! آپ کا مولیٰ کون ہے؟ آپ نے کہا کہ اللہ۔عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! کہ جب بھی میں نے زبیر کے قرض کی ادائیگی کرتے ہوئے مشکل محسوس کی میں نے دعا کی ، اے زبیر کے مولیٰ ! ان کا قرض ادا کر دو تو اللہ تعالیٰ آپ کا قرض ادا کر دیتا تھا۔انتظام فرما دیتا تھا جس سے قرض ادا ہو جاتا تھا۔(صحیح بخاری کتاب النمس باب برکتہ الغازی فی ماله حياً وميتاً حدیث نمبر 3129) پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کے ساتھ مدد اور دوستی کا سلوک کہ وفات کے بعد بھی کسی ذاتی کمزوری کی وجہ سے کسی قرض کی وجہ سے، کسی کو آپ پر انگلی اٹھانے یا اعتراض کرنے کا موقع نہیں دیا اور جب ضرورت ہوئی قرض کی ادائیگی کے انتظام ہوتے چلے گئے۔