خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 537 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 537

537 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم آئندہ بھی نہیں بچا سکے گا۔اگر قارون کی دولت اور مال ماضی میں اس کے کسی تعلق رکھنے والے یا خود سے نہ بچاسکی تو اب بھی کسی کا مال اور دولت خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف چلنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچا سکے گی۔قارون کی دولت نہ پہلے کسی کی بھوک مٹا سکی اور نہ اب مٹا سکتی ہے۔نہ ہی فرعون کسی کے کام آسکا کہ فرعون کی غلامی میں آنے سے ہامان اور قارون سے خود بخود بچت ہو جائے گی کہ وہ سب سے بڑا ہے۔لیکن یہ بھی کام نہ آسکا۔پس یہ ساری پناہ گا ہیں مکڑی کے جالوں سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔آج بھی دنیا دولتمندوں کی دولت کی طرف دیکھتی ہے۔حسرت سے یہ کہا جاتا ہے کہ کاش ہمارے پاس بھی یہ ہوتا اور جس طرح یہ لوگ دولتمند ہیں، ہم بھی اس طرح دولتمند ہوتے۔یا دولتمند شخص کی خوشامد کی جاتی ہے یا دولتمند حکومتوں کی خوشامدیں کی جاتی ہیں۔جو غریب حکومتیں ہوتی ہیں وہ ان سے امداد لینے اور ان کی حکومتوں کے سائے میں آنے کے لئے ان کی خوشامد کرتی ہیں کہ اس سے ہماری ملکی ترقی وابستہ ہے یا پھر یہ کہ اس سے ہماری بقا وابستہ ہے۔اپنے قومی اور ملکی مفاد کو، مفادات کو جو مفاد پرست لیڈر ہیں داؤ پر لگا دیتے ہیں اور یہ باتیں اب کئی ملکوں کے اندرونی راز ظاہر ہونے پر دنیا کے علم میں آچکی ہیں۔کئی ایسے مسلمان ملکوں کے سربراہ بھی اپنے ملکوں کو گروی رکھ چکے ہیں جن کو ضرورت تو نہیں تھی کیونکہ ان کے پاس اچھی بھلی دولت ہے لیکن کیونکہ خدا تعالیٰ پر یقین کامل نہیں ہے اس لئے اپنی حکومتوں کے بقا کے سہارے ڈھونڈے جاتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ قارون کے زیر تصرف دولت اس کے کچھ کام آ سکی اور نہ ہی فرعون کی طاقت اس کے کسی کام آ سکی۔جب خدا تعالیٰ کی تقدیر اپنا کام کرنا شروع کر دیتی ہے تو پھر کوئی اسے ٹالنے والا نہیں ہوتا۔قرآن کریم میں جو پرانے لوگوں کے یہ ذکر محفوظ کئے گئے ہیں، یہ ہمیں صرف تاریخ سے آگاہ کرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ ایک مومن کے ایمان میں ترقی کے لئے ہیں اور اپنی حالتوں کی طرف توجہ دینے کے لئے ہیں۔مثلاً قارون کے ضمن میں اس کا قصہ بیان کرنے کے بعد اس کے انجام کے بارے میں خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنتَصِرِينَ (القصص:82 )۔پس ہم نے اسے اور اس کے گھر کوزمین میں دھنسا دیا پس اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلے پر اس کی مدد کرتا اور وہ کسی تدبیر سے بچ نہ سکا۔پس خدا تعالیٰ کے مقابلے پر نہ گروہ کسی کام آسکا، نہ ان کی دولت کسی کام آ سکی اور نہ یہ کبھی آتی ہے۔جن کی دولت کے سہارے ڈھونڈتے ہوئے بعض لوگ ان سے تعلقات استوار کرتے ہیں اور اس حد تک تعلقات استوار کئے جاتے ہیں ، اس حد تک ان کو سہارا بنایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو ہی بھلا دیا جاتا ہے۔گزشتہ سال دولتمند ملکوں کو بلکہ ساری دنیا کو ہی اللہ تعالیٰ نے معاشی بحران کی شکل میں جو ایک ہلکا سا جھٹکا دیا ہے جسے Credit Crunch کہتے ہیں، یہ ٹرم مشہور ہے۔اس حالت سے ابھی تک نہ یہ کہ دنیا باہر آئی ہے بلکہ آج