خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 534
534 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 13 نومبر 2009 مقصد تو روحانی انقلاب پیدا کرنا ہوتا ہے۔پس جب ان کے متبعین اپنے اندر انقلاب برپا کر لیتے ہیں اور اللہ کے ولی ہونے کے اعلیٰ معیار حاصل کر چکے ہوتے ہیں تو یقینا نبیوں کے لئے یہ رشک کرنے والی بات ہوتی ہے۔ان کو ان کی نیکیوں کی وجہ سے رشک نہیں آ رہا ہوتا بلکہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے ماننے والے وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے حدیث پڑھی ہے اس سے بھی واضح ہے کہ اولیاء کا جو اعلیٰ ترین معیار ہے وہ انبیاء کوملتا ہے اور اس میں سے بھی سب سے اعلیٰ معیار جو ہے وہ آنحضرت ﷺ کا ہے۔پس اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ کے ولی وہی ہیں جو آپ ﷺ کی امت میں شامل ہوکر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہر عمل بجالاتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو اس وجہ سے خدا تعالیٰ کا قرب پاتے ہیں اور ان کے ہر خوف اور غم کو خدا تعالیٰ دور فرما دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا اگر مطلوب ہوگی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم پر بھی نظر ہوگی۔یہ بھی ایک حقیقی مومن کا کام ہے اور آخری زمانہ میں مسیح موعود کو ماننا بھی خدا تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے۔اور جیسا کہ احادیث میں بیان ہوا ہے کہ تفرقہ نہ ڈالو۔اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔یہ سب باتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کسی ایک نے فرقہ بندی کو ختم کرنا ہے اور وہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا جسے خدا تعالیٰ نے خود بھیجا ہو۔جو اللہ تعالیٰ کے ولی ہونے کا اعلیٰ معیار حاصل کر چکا ہو۔پس فی زمانہ خدا تعالیٰ کی خاطر جمع ہو کر آپس میں محبت کرنے والی جماعت بننا اور ایک ہاتھ پر ا کٹھے ہو کر ہر خوف سے امن میں آنا صرف مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا طرہ امتیاز ہے اور ہونا چاہئے۔پس جہاں یہ غیر از جماعت مسلمانوں کے لئے سوچنے کا مقام ہے احمدیوں کے لئے بھی قابل توجہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے تو محبت، پیار اور نظام جماعت کا احترام اور اطاعت اور خلافت سے مضبوط تعلق پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔پھر اگلی آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے خوشخبریاں ہیں اور نہ صرف اس دنیا کے انعامات ہیں بلکہ آخرت کے بھی انعامات ہیں۔یقیناً ان انعامات کا ملنا ایک مومن کے لئے پیدائش کے مقصد کو حاصل کرنا ہے۔اور عظیم الشان کامیابی ہے۔یہ خوشخبریاں کس طرح ملتی ہیں؟ ان کا کیا مطلب ہے؟ اس بارے میں بھی احادیث میں ذکر ملتا ہے۔ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (يونس: 65) - بشرى سے مرادر دیاء صالحہ ہے جسے مومن اپنے متعلق خود دیکھتا ہے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا شخص دیکھتا ہے۔موطا امام مالک کتاب الرؤیا باب ما جاء فی الرؤیا حدیث 1785 دار الفکر بیروت 2002ء) اور اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ جب یہ عرض کیا گیا کہ ہمیں آخرت کی بشری کے بارے میں تو علم ہے کہ