خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 528 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 528

528 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 13 نومبر 2009 ہوئے عمل بھی کرنا ہو گا۔اور جب یہ بات ہوگی تو پھر اللہ تعالیٰ کے ولی خوف سے باہر ہوں گے۔خدا تعالیٰ کا خوف یعنی یہ خوف کہ کہیں خدا تعالیٰ کی دوستی ختم نہ ہو جائے اس کے ولیوں کو ہر قسم کے دنیاوی خوفوں سے محفوظ رکھے گی۔امام راغب لکھتے ہیں کہ الْخَوْف مِنَ اللہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ گناہوں سے بچنا اور اطاعت کو اختیار کرنا۔(المفردات امام راغب زیر مادہ خوف کامل بندگی اور عبادت کی طرف توجہ دینا۔پس اولیاء اللہ کا مقام یونہی نہیں مل جاتا۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے تَتَجَافَى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ (السجدة :17) اور ان کے پہلوان کے بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں۔یعنی رات کو نوافل ادا کرنے کے لئے وہ اپنے بستروں کو چھوڑ دیتے ہیں اور وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کی حالت میں پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا خوف اس لئے دُور فرمائے گا کہ انہیں صرف اور صرف خدا تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے۔ہر قسم کے دنیاوی خوفوں کی ان کے نزدیک کوڑی کی بھی اہمیت نہیں ہوتی۔اور پھر یہی نہیں کہ ان کو کسی قسم کا آئندہ کا خوف نہیں رہے گا کیونکہ ان کا مقصد دنیا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا ہوگی بلکہ مزید تسلی دی که وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ وه گزشتہ باتوں پر غمگین نہیں ہوں گے۔یعنی جب خدا تعالیٰ کسی کو اس کی غلطیاں کو تا ہیاں معاف کرتے ہوئے اپنا ولی بنا لیتا ہے تو اس کی گزشتہ غلطیوں کے اثرات اور صدمات سے بھی اس کو محفوظ رکھتا ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے کہ جب ایک مرتبہ دوست بناتا ہے تو بندہ اگر اس کی دوستی کا حق ادا کرنے والا بنا رہے تو خدا تعالیٰ جہاں آئندہ کے فضلوں کی ضمانت دیتا ہے وہاں گزشتہ گناہوں کی تختی دھونے کی بھی ضمانت دیتا ہے۔دنیا کی کوئی بھی طاقت ایسی عظیم ضمانت دینے کا اختیار نہیں رکھتی بلکہ طاقت بھی نہیں رکھتی۔پس کیا ہی پیارا ہے ہمارا خدا جو سب طاقتوں کا مالک ہے اور اس سے تعلق پیدا کر کے انسان ہر قسم کے خوفوں اور غموں سے آزاد ہو جاتا ہے۔مگر افسوس کہ دنیا کا ایک بڑا حصہ خدا تعالیٰ کا در چھوڑ کر دوسروں کے در پہ پڑا ہوا ہے اور نہ صرف اس کا در چھوڑ کر دوسرے کے در پہ پڑا ہوا ہے بلکہ بغاوت پر تلا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کے خلاف کتابیں لکھی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے وجود کے متعلق بحثیں چل پڑی ہیں کہ خدا تعالیٰ ہے بھی کہ نہیں؟ اور خدا تعالیٰ کے کسی قسم کے حق ادا کرنے اور اس کی عبادت بجالانے کی طرف توجہ نہیں ہے۔ایک بہت بڑی دنیا اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی اور نیچے آگ کے گڑھے کی طرف تیزی سے انسان بڑھتا چلا جارہا ہے۔پس بڑے خوف کا مقام ہے۔بہت زیادہ توجہ اور استغفار کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے ان کو اپنا ولی کہا ہے حالانکہ وہ بے نیاز ہے۔اس کو کسی کی حاجت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے دوست