خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 527
خطبات مسرور جلد ہفتم 527 (46) خطبہ جمعہ فرمودہ 13 نومبر 2009 فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2009 ء بمطابق 13 رنبوت 1388 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ان آیات کی تلاوت فرمایا: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَكَانُوا يَتَّقُوْنَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ۔لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ۔ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (يونس: 65-63) ان آیات کا ترجمہ ہے کہ سنو کہ یقینا اللہ کے دوست ہی ہیں جن کو کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ تقویٰ پر عمل پیرا تھے، ان کے لئے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں۔یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔جیسا کہ ان آیات کے مضمون سے ظاہر ہے ان میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کی حالت اور صفات کا ذکر فرمایا ہے یعنی لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ ان پر کوئی خوف طاری نہیں ہوتا۔دوسرا یہ کہ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ نہ وہ نمگین رہتے ہیں۔پھر اگلی آیت میں فرمایا کہ آمَنُوا ایمان لانے والے اور اسے کامل کرنے والے ہیں۔پھر یہ کہ يَتَّقُونَ تقویٰ میں بڑھنے والے ہیں اور پھر یہ کہ جواللہ تعالیٰ کے ولی ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا ولی ہو جاتا ہے۔ان کو اس دنیا میں بھی خدا کی طرف سے بشارت ہے اور آخرت میں بھی بشارت ہے۔پس یہ انعامات کا ایک سلسلہ ہے جس سے خدا تعالیٰ اپنے ولیوں، دوستوں، حقیقی مومنوں کو نوازتا ہے۔یعنی ایک حقیقی مومن کو خدا تعالیٰ کے تعلق کی وجہ سے ، خدا تعالیٰ کے اس کے ساتھ جاری سلوک کی وجہ سے یہ تسلی ہوتی ہے کہ انہیں پریشانیوں اور ابتلاؤں کی وجہ سے کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچے گا۔خطرات پیدا ہو سکتے ہیں ، امتحانوں میں سے گزرنا پڑ سکتا ہے لیکن ایک حقیقی مومن کو یہ تسلی ہوتی ہے کہ اگر اس دنیا میں کسی قسم کا دنیاوی نقصان ہو بھی گیا تو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اسے پورا فرمائے گا اور اگر کسی قسم کا جانی نقصان ہوتا ہے تب بھی اللہ تعالیٰ اگلے جہان میں اپنے وعدے کے مطابق انعامات سے نوازے گا، ایسے انعامات سے کہ تصور سے بھی باہر ہیں۔لیکن پہلی شرط اللہ تعالیٰ نے یہ لگائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوستی کا حق ادا کرنا ہوگا۔دنیاوی دوستوں کی خاطر تو ہم بعض اوقات بڑی بڑی قربانیاں دے دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا دوست کہلانے اور بننے کے لئے ، اس کا کامل طور پر حق ادا کرنے کے لئے ہر وقت نہ صرف تیار رہنا ہو گا بلکہ ایک محبت کے جذبے سے اس کی ہر بات پر لبیک کہتے