خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 513 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 513

خطبات مسرور جلد ہفتم 513 خطبہ جمعہ فرموده 30 اکتوبر 2009 اپنی حفاظت میں لے لے گا۔اپنے مولیٰ ہونے کا ثبوت دے گا۔اس کے نظارے دکھائے گا۔جو اقبال نے کہا تھا اس سے یہ مزید واضح ہوتا ہے کہ ع گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی (با نگ درا ، از کلیات اقبال صفحہ 139، ناشر: جواد اکمل بث مطبع: نیاز جہانگیر پرنٹرز ، غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور) اور اس کا نتیجہ پھر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے محروم ہو گئے۔نعمت کو ضائع کر دیا۔اللہ تعالیٰ کی حفاظت بھی اٹھ گئی۔غیر ہم پر حکومت کرنے لگ گیا۔کیا اب بھی مسلمانوں کو سمجھ نہیں آئے گی کہ وہ اُمت جس کے بارہ میں قرآن کریم نے اعلان فرمایا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا تھا کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران : 111 کہ تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔وہ اُمت جو فائدے کے لئے پیدا کی گئی تھی وہ اس انعام سے محروم کیوں ہو رہی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو اسے لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا تھا۔لیکن انعامات سے محرومی کیوں ہے؟ اس لئے کہ اپنے لوگوں کے گلے کاٹے جارہے ہیں۔کہیں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کئے جاتے ہیں۔اب کل پرسوں ہی پشاور میں جو دھماکہ ہوا، معصوم جانیں ضائع ہوئیں وہ اسی کا نتیجہ ہے۔کہیں خود کش حملے ہو رہے ہیں۔کہیں مذہب کے نام پر احمدیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے یا بعض دوسرے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔یہ کون سی خیر ہے جو امت کے نام نہاد علماء کے ٹولے کے پیچھے چل کر تقسیم کی جارہی ہے یا جس کو تقسیم کرنے کے لئے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں۔پس سوچنے کا مقام ہے۔اپنی حالتوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ورنہ جب خدا تعالیٰ کی آخری فیصلہ کن تقدیر حرکت میں آ جائے تو پھر کوئی اس انجام کو ٹالنے والا نہیں ہوتا۔دوسروں کے نمونے بھی اصلاح کا باعث بنتے ہیں اور بننے چاہئیں۔یہ احمدیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے بھی جائزے لیتے رہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنے کی تو فیق عطا فرما تار ہے۔ہمیشہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والے ہوں۔ہمیشہ ہم اپنے اعمال پر نظر رکھنے والے ہوں۔ہمیشہ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزارر ہیں۔اور اگر یہ رہے گا تو پھر خدا تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ہمارا مولی ، ہمارا نصیر ہونے کا نظارہ دکھاتا چلا جائے گا۔کوئی نہیں جو جماعت کو نقصان پہنچا سکے۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا بے فَأَقِيْمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكَوةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ ( الحج : 79 ) - پس نماز کو قائم کرو اور زکوۃ دو اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو۔وہی تمہارا آقا ہے۔پس کیا ہی اچھا آقا اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔پس ایک حقیقی مومن کے یہ فرائض ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نماز کو قائم کریں اور اس قیام نماز سے ان میں پاک تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔اللہ تعالیٰ کی خاطر مالی قربانی کی طرف توجہ دیں۔اپنے مالوں کو پاک کریں اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کو مضبوطی سے پکڑیں۔کیونکہ اس کے احکامات پر عمل ہی اس بات کا ثبوت ہوگا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنا آقا و مولیٰ سمجھتے ہیں اور مانتے ہیں۔اور اس یقین پر قائم ہیں کہ وہی ہر آن ہمارا آقا ومولیٰ ہے اور رہے گا۔قرآن کریم میں ایک اور جگہ سورۃ مائدہ میں اسی مضمون کو اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ