خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 512
خطبات مسرور جلد ہفتم 512 خطبہ جمعہ فرموده 30 اکتوبر 2009 جب وہ خود تبدیلی کر لیتا ہےتو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق جو اس نے إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بانفُسِهِمُ میں کیا ہے اس کے عذاب اور دکھ کو بدلا دیتا ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 119 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یعنی پھر وہ اپنی نیکیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے فیض حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے انعامات اس پر نازل ہوتے ہیں۔برائیوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے جو آثار نظر آ رہے ہوتے ہیں وہ دور ہو جاتے ہیں۔پس آجکل مسلم امہ کو بھی سوچنے اور بہت سوچنے اور استغفار کی ضرورت ہے۔اللہ کرے کہ ان کو عقل آجائے۔احمدی بھی جہاں ان کے تعلقات ہیں ان کو اس بات کو سمجھانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وال (الرعد: 12) اور اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں۔کوئی والی نہیں۔پس جب خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں ہے جو حفاظت میں رکھنے والا ہے یا مددگار ہے یا اپنے بندوں کی ہر شر کے خلاف نگرانی کرنے والا ہے تو اس کی تلاش کی ضرورت ہے۔یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے اور وہ کہاں ملتا ہے۔اگر باوجود نمازیں پڑھنے کے نتیجے نہیں نکل رہے ، وہ نتیجے نہیں نکل رہے جو آخری نتیجے ہوں۔اگر باوجو د روزوں کے قومی لحاظ سے انحطاط پذیری ہے۔اگر با وجود لاکھوں لوگوں کے حج کا فریضہ ادا کرنے کے بہتری کے نشانات نظر نہیں آ رہے تو یقیناً ان سب عبادتوں کا حق ادا کرنے میں کہیں نہ کہیں کمی ہے۔اللہ کرے اُمت کو اس کی سمجھ آ جائے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف حقیقی رجوع کرنے والے ہوں۔اس مضمون کو خدا تعالیٰ نے سورۃ انفال میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔فرمایا کہ ذلِكَ بِاَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِعْمَةَ أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (الانفال:54) یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کبھی وہ نعمت تبدیل نہیں کرتا جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو۔یہاں تک کہ وہ خود اپنی حالت کو تبدیل کر دیں اور یا درکھو کہ یقیناً اللہ بہت سنے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔اسے مزید کھول دیا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو تبدیل نہیں کرتا۔جب تک وہ خود اپنی حالت اس نعمت سے محرومی کی نہ بنالے اللہ تعالیٰ کسی سے کوئی دی ہوئی نعمت نہیں چھینتا۔انسان خود اپنے اعمال کی وجہ سے، اپنی بدبختی کی وجہ سے، اپنی بدقسمتی کی وجہ سے ان نعمتوں کو ضائع کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہمارے سامنے قرآن کریم میں آگیا ہے۔یہ صرف پرانے لوگوں کے قصے بیان کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو بھی ہوشیار کرنے کے لئے ہے کہ یہ کتنی بڑی نعمت تمہیں مل گئی ہے اس کی قدر کرنا۔اس نعمت کو خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدہ:4) کہ اپنی نعمت کو میں نے پورا کر دیا۔پس یہ نعمت آخری شرعی کتاب کی صورت میں، قرآن کریم کی صورت میں ہمیں ملی۔عمل کا حکم ہے اور جب اس پر عمل ہوگا تو تب ہی نیکیاں قائم ہوں گی اور جب نیکیاں قائم ہوں گی تو پھر جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے خدا تعالیٰ