خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 504
504 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 2009 ان سے جماعت کے عقائد کے بارہ میں پوچھا اور انہیں ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک پادری ایک احمدی کے آگے کس طرح بے بس ہو گیا۔کس طرح ہتھیار ڈالے اور کیسے اس احمدی کی اس بات نے صلیب کو تو ڑ کر رکھ دیا۔اس پر ناصر الدین البانی نے کہا کہ ہم عیسائیوں کا منہ بند کرنے کے لئے ان سے کہہ سکتے ہیں کہ عیسی بن مریم فوت ہو گئے ہیں۔اس پر انہوں نے پوچھا کہ کیا حقیقت میں حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں ؟ تو البانی صاحب نے کہا نہیں۔اس پر آپ نے ان کو کہا کہ میں جا کے بیعت کرنے لگا ہوں کیونکہ عقیدہ کسی دوغلی پالیسی کا محتاج نہیں ہوتا اور پھر آپ نے بیعت کر لی۔نیشنل عاملہ کے ممبر بھی تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب شام تشریف لے گئے تو آپ کے ساتھ ان کو لبنان جانے کا شرف بھی حاصل ہوا۔بیان کرتے ہیں کہ اس سفر کے دوران بعلبك کے آثار قدیمہ کی سیر بھی کی۔بعلبك پر انا معبد تھا۔اس کی سیر کے دوران حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہاں غیر اللہ کی عبادت ہوتی رہی ہے لیکن آج ہم میں سے ہر ایک یہاں پر خدائے واحد کی عبادت کرتے ہوئے دو رکعت نفل ادا کرے، چنانچہ سب نے ایسا ہی کیا۔بڑے اچھے وکیل تھے اور خلافت سے ایسا تعلق تھا کہ وکیل ہونے کی وجہ سے ہر بات کے لئے وہ دلیل چاہتے تھے لیکن جب یہ کہ دیا جائے کہ خلیفہ وقت کی طرف سے یہ کہا گیا ہے تو کہتے تھے۔بس ختم ، جب یہ حکم آگیا تو بات ختم ہو گئی۔اب یہی فیصلہ ہے۔خلافت رابعہ کے زمانہ میں بعض احمد یوں پر مقدمات بنائے گئے ان مقدمات کی انہوں نے پیروی کی اور رہائی کے سامان اللہ تعالیٰ نے فرمائے۔بڑے حاضر جواب تھے۔ایک دفعہ شروع میں نو جوانی میں عدالت میں پیش ہوئے۔حالانکہ وکالت کا لباس بھی پہنا ہوا تھا تو حج نے بڑے استہزائیہ انداز میں کہ نوجوان وکیل ہے پوچھا کہ کیا تم وکیل ہو؟ آپ اس مقدمہ میں پیش ہونے والے اکیلے وکیل تھے اور تو کوئی تھا نہیں اور وکالت کے لباس میں بھی تھے ، آپ نے فورا حج سے پوچھا کہ کیا تم حجج ہو ؟ تو اس پر حج خاموش ہو گیا اور سنا ہے کہ بڑی سیکی برداشت کرنی پڑی۔عربی ڈیسک والے ہمارے مبلغین جو پڑھنے جاتے رہے ہیں ان کے ساتھ بھی یہ بڑا شفقت کا سلوک فرماتے رہے اور ان کی زبان ٹھیک کرنے میں انہوں نے بڑی مدد کی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور آگے ان کی نسلوں میں بھی احمدیت قائم رکھے۔ہمارے محمد اولیس السعو دی صاحب ایم ٹی اے کے کارکن ہیں اور محمد ملص صاحب آجکل یو کے میں ہیں یہ دونوں ان کے نوا سے ہیں۔تیسرا جنازہ ہے میاں غلام رسول صاحب کا ہے جو مکرم میاں سراج الحق صاحب آف میرک ضلع اوکاڑہ کے بیٹے تھے۔یہ ہمارے ٹرینیڈاڈ کے مبلغ مظفر احمد خالد صاحب کے والد تھے۔موصی تھے۔بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔