خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 503 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 503

503 خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اپنے فضلوں سے مسلسل نواز نے کا اظہار کرتا ہے اور نظارے دکھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ہمیشہ خدا تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ ہم ہمیشہ اس خدا تعالیٰ سے فیض پاتے رہیں جس نے ہمیں یہ تسلی دی ہے کہ آن الله مَوْلَاكُمْ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ۔جان لو کہ اللہ ہی تمہارا مولیٰ ہے اور والی ہے۔کیا ہی اچھا والی ہے اور کیا ہی اچھا مد دکر نے والا ہے۔اب جمعہ کے بعد میں چند جنازے پڑھاؤں گا۔اس کے بعد ان کے بارہ میں اعلان کرتا ہوں۔پہلا تو ہے مکرم ذوالفقار منصور صاحب ابن مکرم منصور احمد صاحب مرحوم آف کوئٹہ کا ، جن کو 11 /اکتوبر کو کچھ شر پسندں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔انہیں شہادت سے ایک ماہ قبل اپنے گھر سے کار پر نکلتے ہوئے اغواء کیا گیا تھا اور رقم کا مطالبہ کیا گیا کہ اتنی رقم دو۔کافی بڑی رقم تھی اور مسلسل رابطہ رکھا اور رقم کا انتظام بھی ہورہا تھا لیکن آخر ایک دن پتہ لگا کہ ایک جنگل میں ان کی لاش پڑی ہے اور ساتھ یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگ کیونکہ بہت سے لوگوں کو قادیانی بنا لیتے ہیں اس لئے اس کو ہم زندہ نہیں چھوڑیں گے۔شہادت سے قبل ان پر کافی تشدد بھی کیا گیا۔ایک آنکھ میں فائر کر کے چہرے کو بری طرح مسخ کیا گیا۔یہ بڑے ایکٹو (Active) خادم تھے۔بڑے دیانتدار انسان تھے اور آجکل نائب قائد خدام الاحمدیہ کی خدمت بھی انجام دے رہے تھے۔اس سے پہلے ان کے ایک چا عباس احمد صاحب کو اپریل 2008ء میں شہید کیا گیا تھا اور 2009ء جون میں ان کے ایک اور رشتہ کے چا خالد رشید صاحب کو شہید کیا گیا۔یہ نو جوان حضرت منشی عبد الکریم صاحب بٹالوی صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے پڑپوتے تھے۔پسماندگان میں ان کی بوڑھی والدہ اور اہلیہ ہیں اور دو بچے ہیں۔ایک بیٹی بعمر 9 سال اور ایک بیٹا بھمر 6 سال۔اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کے درجات بلند کرتا چلا جائے۔دوسرے ہمارے شام کے ایک دوست مُحَمَّد الشَّوَاء صاحب 14 اکتوبر 2009ء کو وفات پاگئے تھے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ شام کے پرانے مخلص بزرگ تھے اور بڑے مثالی احمدی تھے خلافت اور نظام جماعت سے عشق و وفا کا اور اطاعت و احترام کا تعلق تھا۔نیک اور متقی انسان تھے۔جب بھی کوئی کام سپر د ہوتا بڑی ذمہ داری سے سرانجام دیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق تھا۔آپ کے نام کے ساتھ ہی جذباتی ہو جایا کرتے تھے۔1950ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور بڑے منجھے ہوئے وکیل تھے۔آپ کی بیعت کا واقعہ اس طرح ہے کہ بیعت سے قبل جماعت سے تعارف کے بعد ایک مشہور عالم ناصر البانی جو جماعت کے شدید مخالف تھے اور حدیث کے بہت بڑے عالم تھے اور عرب دنیا میں ان کا بہت چرچا تھا۔ان سے ملنا شروع کیا اور