خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 499
499 خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم ہے۔پھر انہوں نے مختلف آیات کے حوالے سے آگے اس کی مزید وضاحت کی ہے۔مثلا ذلِكَ بِاَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا (محمد :12) سورة محمد کی آیت ہے۔پھر نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِير (الانفال: 41) انفال کی آیت ہے۔پھر قُلْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِنْ زَعَمْتُمُ أَنَّكُمُ اَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ (جمعہ :7) سورۃ جمعہ کی آیت میں ہے۔ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللهِ مَوْلَهُمُ الْحَقِّ (الانعام : 63) سورۃ الانعام کی آیت ہے۔وَمَالَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَّال | (الرعد: 12) الرعد کی آیت ہے۔اس میں وال کے معنی ولی کے ہیں۔پھر آگے انہوں نے ان آیات کے حوالے سے گرائمر کی بحث کی ہے۔تو اس بحث میں جانے کی بجائے میں آیات کو پیش کرتا ہوں۔پہلی آیت جو سورۃ محمد کی ہے وہ مکمل اس طرح ہے کہ ذلِكَ بِانَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَانَّ الْكَفِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ (محمد: 12) یہ اس لئے ہے کہ اللہ ان لوگوں کا مولیٰ ہوتا ہے جو ایمان لائے اور کافروں کا یقینا کوئی مولیٰ نہیں ہوتا۔اس آیت سے پہلے کی آیات میں سے ایک آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا إِن تَنْصُرُ وَ اللَّهَ يَنْصُرُكُمُ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمُ ( محمد :8 ) کہ اے مومنو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط کرے گا۔اس آیت میں آنحضرت تعلیم کے بعد کے زمانہ کے مسلمانوں کو بھی نصیحت ہے اور تنبیہ بھی ہے کہ صرف ایمان لانا کافی نہیں ہوگا بلکہ اللہ کے دین کی مددتم پر فرض ہے اور یہی چیز پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے تمہیں اللہ تعالیٰ کی مدد سے حصہ لینے والا بنائے گی۔تمہارے ایمان مضبوط ہوں گے اور تم ایک جماعت کہلاؤ گے اور خاص طور پر مسیح موعود کے زمانہ میں جب تجدید دین ہونی ہے تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرستادہ کی مدد کر یں۔اگر یہ مدد کریں گے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے نظارے دیکھیں گے اور ایمان نہ لانے والوں کا پہلے انبیاء کے منکرین والا حال ہوگا۔آج بھی مسلمانوں کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے۔میں کئی مرتبہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو مدد اور نصرت کا ہے۔اللہ تعالیٰ کا تو وعدہ روشنیوں کی طرف لے جانے کا ہے لیکن مومن کہلانے کے باوجود اخباروں میں کالم نویس جو ہیں یہ لکھتے ہیں کہ ہم ایمان میں کمزوری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ہم روشنیوں سے اندھیروں کی طرف جارہے ہیں۔ہم مادی لحاظ سے بھی ترقی کی بجائے تنزل کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔کون سی ایسی بُرائی ہے جو اس وقت ہم میں نہیں۔یہ ان کے خود اپنے لکھنے والے لکھتے ہیں۔پس کہیں نہ کہیں ہم نے اس خدا کو ناراض کیا ہوا ہے جو مومنوں کا مولیٰ ہے۔اب بھی سوچنے کا وقت ہے کہ اپنے اندر ایمان کی روشنی پیدا کریں۔اللہ کے دین کی نصرت کے لئے آگے آئیں۔وقت کے امام کی پہچان کریں۔آنحضرت ﷺ کا سلام پہنچا ئیں۔صرف اس بات کی ضد کرنا کہ نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے اور اب کوئی نبی نہیں آسکتا عقلمندی نہیں ہے۔بزرگان سلف جو ہیں ان کے اقوال کو دیکھیں اور غور سے دیکھیں اور پڑھیں کہ وہ کیا کہتے ہیں۔صرف آجکل کے علماء جو نام نہاد اور سطحی علماء ہیں ان کے پیچھے نہ چلیں۔بعض پرانے بزرگوں کے حوالے میں