خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 498
498 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 2009 ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ وہ انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ اصولی فیصلہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کا انکار کرنے والے شیطان کے دوست ہیں اور شیطان روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے۔کبھی اس کے پیچھے چلنے والے روشنی کے نظارے نہیں دیکھ سکتے۔آنحضرت ﷺ نے جب دعوئی فرمایا اور مکہ والوں کو ہدایت کی طرف بلایا تو سرداران قریش جن میں سے بعض بڑے عقلمند اور اچھے انسان کہلاتے تھے اور بعض نیکیاں بھی کرتے تھے لیکن آنحضرت ﷺ کے انکار کی وجہ سے شیطان کے بہکاوے میں آکر، یا بہکاوے میں آنے کی وجہ سے ان نیکیوں سے محروم ہوتے چلے گئے اور آخر ہلاکت ان کا مقدر بن گئی۔ابوالحکم پہلے ابو جہل بنا اور پھر ذلت کی موت ملی۔گزشتہ خطبہ میں میں نے اس کا ذکر بھی کیا تھا اور آج تک ابو جہل ہی کہلاتا ہے بلکہ تا قیامت ابو جہل ہی کہلائے گا۔اس کا ولی شیطان تھا جو اس کی کوئی مدد نہیں کر سکا۔وہ اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا۔لیکن حبشی غلام، بلال ایمان کے نور کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے وَلِی بن گئے اور اللہ تعالیٰ کی دوستی اور مدد کے نتیجہ میں قیامت تک سیدنا بلال کا مقام پاگئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں روحانیت اور سچائی کے دعویدار ہونے کے باوجود آپ کے جومنکرین تھے آپ کے مقابلہ پر کھڑے ہو کر اندھیروں میں ڈوبتے چلے گئے۔لیکن کئی ایسے جو جاہل اور اُجڑ تھے، کئی ایسے جو رشوت خور اور بدنام زمانہ تھے، جب ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا تو وہ ایمان لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق روحانیت میں ترقی کرنے والے بنتے چلے گئے۔پس نبی کے انکار کرنے والے اس انکار کی وجہ سے اندھیروں میں گرتے چلے جاتے ہیں اور شیطان ان میں کینہ اور بغض اور نا انصافی اس قدر بھر دیتا ہے کہ وہ پھر مزید ظلمات میں گرتے چلے جاتے ہیں اور پھر ان کے انجام کے بارہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کا انجام بہت برا ہوگا۔اس دنیا میں بھی وہ حسد کی آگ میں اور دشمنی کی آگ میں جلتے چلے جائیں گے۔جماعتی ترقی کا ہر قدم ان کے بغضوں اور کینوں کو بھڑکائے گا۔لیکن ان کے یہ غصے اور کینے ان لوگوں کو جن کا ولی اللہ تعالیٰ ہو جاتا ہے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے۔پھر میں لغت کے کچھ حصے کی طرف آتا ہوں۔لسان میں لکھا ہے کہ بعض نے وَلِيُّهُمُ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مومنوں کو ثواب دینا۔اور ان کے نیک اعمال پر انہیں جزاد دینا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔پھر لکھا ہے ولی اللہ، اللہ کا دوست۔وَلِبی میں مستقل مزاجی کے ساتھ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے کوئی کام کرنے کا مضمون پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا چنیدہ اور مقبول بندہ اللہ تعالیٰ کے مسلسل فضلوں اور انعامات کا مظہر ہوتا ہے۔اَلْوَلِيُّ وَالْمَوْلى، اس کی گرائمر کی تفصیلات چھوڑتا ہوں، آگے بیان ہے کہ مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے متعلق وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ وَمَوْلَاهُمُ دونوں طرح کہنا درست