خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 473
473 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 2 اکتوبر 2009 لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ اپنے بھائی کے گھر سے ، ان کے کسی بچے کی شادی میں شامل ہو کر ساڑھے آٹھ بجے کے وقت اپنی بیٹی اور بچوں کے ہمراہ آ رہے تھے تو راستے میں ایک جگہ پر جہاں آبادی کم تھی دو افراد نے انہیں پستول دکھا کر روکا۔بیٹی اور بچے زمین پر گر گئے اور موٹر سائیکل کا بیلنس نہیں رہا۔یہ بچوں کو اٹھانے کے لئے جب آگے بڑھے ہیں تو پھر حملہ آوران کے بہت زیادہ قریب آگئے اور پستول ان کی کنپٹی پر رکھ دیا۔انہوں نے کہا جو تم نے لینا ہے وہ لے لو اور جان چھوڑو۔لیکن انہوں نے وہیں ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر فائر کیا اور وہ شہید ہو گئے۔یہ طب کے پیشہ سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے حکمت پڑھی تھی اور اپنی آبادی میں جہاں یہ پریکٹس کرتے تھے کافی ہر دلعزیز تھے۔موصی بھی تھے۔51 سال ان کی عمر تھی ، بڑے خوش اخلاق ملنسار جماعت کے مخلص کارکن ، اطاعت کرنے والے، مہمان نوازی کرنے والے، دعاؤں اور نمازوں کی بڑی پابندی کرنے والے۔آجکل بطور سیکرٹری مال خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے جو یادگار ہیں۔اسی طرح ان کے پانچ بھائی اور بہنیں ہیں اور ان کے ایک بھائی مربی سلسلہ بھی ہیں۔والد بھی ان کے حیات ہیں۔اللہ تعالیٰ شہید کے بیوی بچوں اور والدین کو صبر اور دعا کے ساتھ یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے پیارے اور ہمارے پیارے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو رہے ہیں ان کی وجہ سے ہم میں سے ہر ایک کے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہوتی رہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھے۔دو اور شہید بھی ہیں جو جماعتی وجہ سے تو نہیں لیکن دہشت گردی جو آج کل ملک میں عام ہے اور جیسا کہ میں نے کہا بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اور ملک کو دولخت کرنے کی طرف یہ لوگ جا رہے ہیں، پھاڑنے کی طرف یہ لوگ جا رہے ہیں۔اس دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔یہ دو شہید۔ایک ریاض احمد صاحب اور امتیاز احمد صاحب۔دونوں بھائی تھے، پشاور میں پچھلے دنوں میں بنک کے قریب بم دھما کہ ہوا ہے یہ لوگ سڑک سے گزر رہے تھے تو اس کی زد میں آگئے اور وہیں ان کی موقع پر ہی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ایک کی عمر 40 سال تھی ، ان کی شادی ہوئی ہے اور ان کے دو بچے ہیں اور جو دوسرا بھائی تھا ابھی 20 سال کا تھا۔ان کا بھی شہید کے جنازے کے ساتھ ابھی جمعہ کے بعد جنازہ پڑھاؤں گا۔اسی طرح ایک جنازہ اور ہے جو یہاں یو کے، کے سابق نیشنل صدر اور امیر جماعت چوہدری انور کاہلوں صاحب کا ہے جن کی 27 ستمبر کو وفات ہوئی ہے۔آپ لمبا عرصہ یہاں یو کے میں رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا نیشنل پریذیڈنٹ بھی رہے اور جماعت کے امیر بھی رہے۔صدر قضاء بورڈ ( یو کے ) بھی رہے۔پہلے یہ ڈھا کہ میں تھے لیکن اس سے پہلے کلکتہ میں تھے وہاں بھی امیر رہے ہیں۔پھر ڈھا کہ میں امیر رہے ہیں۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے ممبر بھی تھے۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے ساتھ ان کا خاص تعلق تھا۔یہ ان کے سیکرٹری کے طور پر مختلف سفروں