خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 433
433 خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اپنے اعمال کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق رکھو تا کہ وہ آفات اور پکڑ اور عذاب جو پرانی قوموں پر آتے رہے اس سے بچے رہو۔ایک آیت میں پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم کی تعلیم جو ہے وہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔فرمایا کہ رَسُولٌ مِنَ اللهِ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ ( البيت : 3-4 ) اللہ کا رسول مطہر صحیفے پڑھتا تھا۔ان میں قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات تھیں۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تفصیل سے مختلف جگہوں پر روشنی ڈالی ہے۔ایک بیان میں پڑھتا ہوں۔فرماتے ہیں کہ قرآن مجید لانے والا وہ شان رکھتا ہے کہ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةٌ فِيْهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ (البينة : 3-4) ایسی کتاب جس میں ساری کتابیں اور ساری صداقتیں موجود ہیں۔کتاب سے مراد اور عام مفہوم وہ عمدہ باتیں ہیں جو بالطبع انسان قابل تقلید سمجھتا ہے۔وہ باتیں ہیں جن کو انسانی طبیعت سمجھتی ہے کہ اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ان کی پیروی کی جاسکتی ہے اور کی جانی چاہئے )۔فرمایا : ” قرآن شریف حکمتوں اور معارف کا جامع ہے اور وہ رطب و یابس فضولیات کا کوئی ذخیرہ اپنے اندر نہیں رکھتا (اس میں کوئی فضول بات نہیں )۔ہر ایک امر کی تفسیر وہ خود کرتا ہے اور ہر ایک قسم کی ضرورتوں کا سامان اس کے اندر موجود ہے۔وہ ہر ایک پہلو سے نشان اور آیت ہے۔اگر کوئی اس امر کا انکار کرے تو ہم ہر پہلو سے اس کا اعجاز ثابت کرنے اور دکھلانے کو تیار ہیں“۔( یہ چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس وقت دیا۔) فرمایا کہ آجکل تو حید اور ہستی الہی پر بہت زور آور حملے ہو رہے ہیں۔(اور اس زمانے میں پھر آجکل اللہ تعالیٰ کے وجود کے خلاف بہت زیادہ کتابیں لکھی جا رہی ہیں تو آج کل پھر قرآن کریم کو پڑھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔فرمایا کہ آجکل تو حید اور ہستی الہی پر بہت زور آور حملے ہو رہے ہیں۔عیسائیوں نے بھی بہت کچھ زور مارا اور لکھا ہے۔لیکن جو کچھ کہا اور لکھا وہ اسلام کے خدا کی بابت ہی لکھا ہے۔نہ کہ ایک مُردہ ، مصلوب اور عاجز خدا کی بابت۔ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر قلم اٹھائے گا۔اس کو آخر کا راسی خدا کی طرف آنا پڑے گا۔جو اسلام نے پیش کیا ہے۔کیونکہ صحیفہ فطرت کے ایک ایک پتے میں اس کا پتہ ملتا ہے اور بالطبع انسان اسی خدا کا نقش اپنے اندر رکھتا ہے۔غرض ایسے آدمیوں کا قدم جب اٹھے گا وہ اسلام ہی کے میدان کی طرف اٹھے گا۔فرمایا: ”یہ بھی تو ایک عظیم الشان اعجاز ہے۔اگر کوئی شخص قرآن کریم کے اس معجزہ کا انکار کرے تو ایک ہی پہلو سے ہم آزما لیتے ہیں یعنی اگر کوئی شخص قرآن کریم کو خدا کا کلام نہیں مانتا تو اس روشنی اور سائنس کے زمانہ میں ایسا مدعی خدا تعالیٰ کی ہستی پر دلائل لکھے۔بالمقابل ہم وہ تمام دلائل قرآن کریم ہی سے نکال کر دکھلا دیں گے اور اگر وہ شخص توحید الہی کی نسبت دلائل قلمبند کرے تو وہ سب دلائل بھی ہم قرآن کریم ہی سے نکال کر دکھا دیں گے۔پھر وہ ایسے