خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 432 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 432

432 خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم یہ عزت تبھی ہے جب ہم عمل کر رہے ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس چیز کا جو درجہ ہے وہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے۔قرآن کریم کے کامل کتاب اور اس کی خوبصورت تعلیم کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں چونکہ قرآن کریم خاتم الکتب اور اکمل الکتب ہے اور صحائف میں سے حسین اور جمیل ترین ہے۔اس لئے اس نے اپنی تعلیم کی بنیاد کمال کے انتہائی درجہ پر رکھی ہے اور اس نے تمام حالتوں میں فطری شریعت کو قانونی شریعت کا ساتھی بنا دیا ہے تا وہ لوگوں کو گمراہی سے محفوظ کر دے اور اس نے ارادہ کر لیا ہے کہ وہ انسان کو اس بے جان چیز کی طرح بنا دے جو خود بخود دائیں بائیں حرکت نہیں کر سکتی اور نہ ہی کسی کو معاف کر سکتی یا اس سے انتقام لے سکتی ہے جب تک کہ خدائے ذوالجلال کی طرف سے اجازت نہ ہو۔( ترجمه از عربی عبارت خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 316) پس قرآن کریم کی تعلیم پر حقیقی عمل یہ ہے کہ اس کے ہر حکم کو بجالانے کی کوشش کی جائے تبھی عمل کرنے والے کی یا پڑھنے والے کی ہر حرکت وسکون جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے تابع کہلائے گی اور یہ بھی نہیں کہ اس کی تعلیم میں کوئی مشکل ہے بلکہ یہ فطرت کے عین مطابق ہے۔اس کا ذکر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ یہ کیا ہے۔مثلاً روزوں کے جو احکام ہیں اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (البقرة:186) که یعنی الله تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔یہ ایک اصولی اعلان ہے۔قرآن کریم کی تعلیم فطرت کے مطابق ہے اور اس کے بارہ میں یہ بتایا گیا کہ اس میں آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔تمہاری طاقتوں کے مطابق تمہیں تعلیم دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور پھر یہ تعلیم ان اعلیٰ معیاروں کا پتہ دینے والی ہے جو معیار تمہیں خدا تعالیٰ کے قریب ترین کر دیتے ہیں۔پھر ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (القمر : 18) اور یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنا دیا۔پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ یہاں نصیحت اس لئے نہیں کہ نصیحت برائے نصیحت ہے۔کر دی اور مسئلہ ختم ہو گیا۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان نصائح کو پکڑو اور ان پر عمل کرو۔اگر یہ خیال ہے کہ مشکل تعلیم ہے تو یہ خیال بھی غلط ہے۔یہ اس خدا کا کلام ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور ہر انسان کی استعدادوں کا بھی اس کو علم ہے۔وہ خدا یہ اعلان کرتا ہے کہ اس کی نصیحتیں اور اس قرآن کی تعلیم پر جو عمل ہے وہ انسانی استعدادوں اور فطرت کے عین مطابق ہے۔پس کیا اس کے بعد بھی تم اس سوچ میں پڑے رہو گے کہ اس تعلیم پر میں کس طرح عمل کروں؟ اس تعلیم پر عمل کرو تو جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے بے انتہا انعامات کے وارث ٹھہرو گے۔پھر اس قرآن میں پرانی قوموں کے جو حالات بیان کئے گئے ہیں وہ بھی اس لئے ہیں کہ نصیحت پکڑو اور