خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 404 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 404

خطبات مسرور جلد ہفتم 404 خطبہ جمعہ فرمود : 28 اگست 2009 عاجزی میں بے انتہا بڑھے ہوئے تھے، کوئی بھی نئی چیز جب مطالعہ میں آتی تھی تو مجھے بھی متعلقہ صفحات کی فوٹو کا پیاں کر کے بھیجا کرتے تھے۔ایک ایسے عالم تھے جو یقینا ایک عالم با عمل کہلانے کے حقدار تھے۔اور جیسا کہ میں نے کہا بڑے بے نفس کا رکن۔ایک ایسے سلطان نصیر کے جانے سے طبعاً فکر بھی پیدا ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ خلافت کو سلطان نصیر عطا فرماتا چلا جائے گا۔ایک لکھنے والے ہمارے مبشر ایاز صاحب ہیں انہوں نے مجھے لکھا کہ ان کے ساتھ جب میٹنگز اٹینڈ (Attend) کرتے تھے ان کا وجود ایک عجیب عشق میں ڈوبا ہوا و جو لگتا تھا کہ جس طرح قطب نما کی سوئی ہمیشہ شمال کی جانب رہتی ہے اسی طرح ان کی سوچ کا محور بھی ہمیشہ خلافت کی طرف رہتا تھا۔بڑے بڑے حوالوں اور فتاوی کو پر کاہ سے زیادہ وقعت نہیں دیتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ جب خلیفہ اسیح نے یہ کہ دیا تو فلاں کے حوالے کی اور فلاں کے قول کی کیا اہمیت ہے۔پھر ایک مربی صاحب نے مجھے لکھا کہ سعودی عرب کے امیر صاحب آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے وہاں کی تاریخ احمدیت مرتب کرنی ہے۔مولانا دوست محمد شاہد کے پاس چلتے ہیں۔چنانچہ وہ ان کے دفتر میں گئے تو انہوں نے آدھے گھنٹے میں سارے حوالے وغیرہ دے کے پوری تاریخ بیان کر دی اور فوٹو کا پیاں بھی کروا کر ان کو دے دیں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ بہت بلا کا حافظہ اور حوالوں کے بادشاہ تھے۔جماعتی اموال کا بھی بڑا درد تھا ان کو۔ایک صاحب نے لکھا کہ میں کسی حوالے کے لئے ان کے دفتر میں گیا۔تو انہوں نے مجھے بتایا اور حوالہ میرے سامنے کر دیا تو میں نے ان کی میز سے قلم اٹھا کر لکھنا شروع کیا۔پہلے قلم لیا، پھر کاغذ لیا تو انہوں نے قلم اور کاغذ دونوں مجھ سے لے لئے کہ تم یہاں ذاتی استعمال کے لئے حوالہ لینے آئے ہو، اپنا قلم استعمال کرو اور اپنی نوٹ بک استعمال کرو۔پھر محمود ملک صاحب نے مجھے یہ لکھا کہ ان کے والد عبدالجلیل عشرت صاحب کے یہ دوست تھے۔ایک دفعہ یہ لاہور کے دورہ پر گئے تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ میں آ نہیں سکتا تو یہاں آجائیں تو دوستی کی وجہ سے ذاتی تعلق کی وجہ سے چلے گئے ، وہ رکشے پر ان کو لے کے گئے۔مولوی صاحب نے رکشہ کا کرایہ ادا کرنے کی کوشش کی۔خیر انہوں نے اس وقت تو دے دیا۔اگلے دن وہاں مسجد دارالذکر میں جانا تھا تو انہوں نے کہا کہ جا کے ٹیکسی لے کے آؤ اور ٹیکسی کا کرایہ بھی میں ادا کروں گا، کیونکہ مجھے مرکز ٹیکسی کا کرایہ دیتا ہے اور مرکز چاہتا ہے کہ ہمارے علماء کی عزت رہے۔اس لئے میں رکشے پہ نہیں بیٹھوں گا اور ٹیکسی پہ جاؤں گا۔تو یہ صرف اطاعت نہیں تھی۔اس سے بہت سے سبق ملتے ہیں کہ جو جس چیز کا اینٹا کلمینٹ (entitlement) ہے، جس چیز کا مرکز نے کہا ہے کہ آپ نے استعمال کرنا ہے ، اس کو استعمال بھی کرنا تا کہ کسی بھی قسم کی اطاعت سے باہر نہ نکل سکیں۔اور دوسرے علماء کا جو وقار ہے اس کا بھی احساس رہنا۔