خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 403 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 403

403 خطبه جمعه فرمود : 28 اگست 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اللہ تعالیٰ ہمیں وہ معرفت عطا فرمائے جس سے ہم دعاؤں کی حقیقت اور خدا تعالیٰ کا قرب پانے کے فلسفہ کو سمجھ سکیں۔ہمارا ہر عمل اور فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔رمضان میں ان دعاؤں کے طفیل جن سے خدا اپنے بندے کے نزدیک آ جاتا ہے وہ تبدیلیاں ہم میں پیدا ہوں جو ہمیں دوسروں سے ہمیشہ ممتاز کر کے دکھاتی چلی جائیں۔اپنی دعاؤں میں ہمیں جماعت کے ہر شر سے محفوظ رہنے اور اسلام کی ترقی کے لئے بھی بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔جو دعائیں ہم خدا تعالیٰ کے دین کے قیام و استحکام کے لئے کریں گے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان دعاؤں کی بھی توفیق دے اور پاک تبدیلیاں بھی اس کے نتیجہ میں ہمارے اندر پیدا فرمائے اور ہم اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے بھی بن جائیں۔اس کے بعد اب میں حضرت مولانا دوست محمد صاحب شاہد کا کچھ ذکر خیر کروں گا۔جن کی دو دن پہلے وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ جماعت کے چوٹی کے عالم تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔آپ مؤرخ احمدیت کہلاتے تھے۔تاریخ احمدیت آپ نے لکھی ہے جس کی 20 جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ صرف مؤرخ احمدیت نہیں تھے بلکہ آپ تاریخ احمدیت کا ایک باب بھی تھے اور ایک ایسا روشن وجود تھے جو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی روشنی کو ہر وقت جب بھی موقع ملے دنیا میں پھیلانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔آپ کا حافظہ بلا کا تھا اور یہ کہنا بے جانہ ہوگا بلکہ کئی لوگوں نے مجھے لکھا بھی کہ آپ ایک انسائیکلو پیڈیا ہیں کیونکہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بھی یہ کہہ چکے ہیں۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے بھی کہا ہے لیکن میں ان کو یہ ہی کہا کرتا تھاکہ وہ تو ایک انسائیکلو پیڈیا ہیں۔اب جب میں نے پڑھا تو مجھے پتہ لگا کہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے بھی ان کے بارے میں یہی فرمایا تھا کہ وہ ایک انسائیکلو پیڈیا تھے۔پرانے بزرگوں ، اولیاء اور مجددین کے حوالے بھی ان کو یاد ہوتے تھے۔بڑا گہرا مطالعہ تھا اور نہ صرف حوالے یاد ہوتے تھے بلکہ کتابیں اور اس کے صفحے تک یاد ہوتے تھے۔بعض لوگوں نے مجھے خطوط میں ان کی بعض ذاتی خوبیاں بھی لکھی ہیں۔ان کے بارہ میں کچھ معلومات میں نے ان کے بیٹے کے ذریعہ سے بھی لی ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا وہ تاریخ احمدیت کا بھی ایک باب تھے۔سب کچھ تو یہاں بیان نہیں ہو سکتا۔چند باتیں میں ان کے بارے میں بیان کروں گا۔بہت ہی بے نفس اور اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ دین کی خاطر صرف کرنے والے بزرگ تھے۔واقف زندگی تھے۔خلافت سے انتہا کا تعلق تھا۔بہت بزرگ اور دعا گو تھے۔مجھے کسی نے لکھا کہ جب بھی کسی نے ان کو دعا کے لئے کہا تو ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ مجھے دعا کے لئے نہ کہو۔دعا کے لئے لکھنا ہے تو خلیفہ اسیح کولکھو۔