خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 396

خطبات مسرور جلد ہفتم 396 (35) خطبہ جمعہ فرمود : 28 اگست 2009 فرمودہ مورخہ 28 راگست 2009ء بمطابق 28 رظہور 1388 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔( البقره : 187) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقینا میں قریب ہوں۔میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔اللہ تعالیٰ کا بے حد و حساب احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایک اور رمضان المبارک دیکھنا نصیب فرمایا اور آج ہم محض اور محض اس کے فضل سے اس رمضان کے چھٹے روزہ سے گزر رہے ہیں۔اگر انسان سوچے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا شمار نہیں۔جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنکبوت: 70) یعنی اور جولوگ ہم سے ملنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنے راستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشتے ہیں۔فرمایا تو یہ ہے کہ جو لوگ آنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو خدا تعالیٰ اپنی طرف آنے کی توفیق بخش دیتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بندوں پر نہیں چھوڑا کہ میری طرف آنے کے راستے خود تلاش کر و اگر صحیح راستے کو خود ہی پا لیا تو ٹھیک ہے، ہمیں پکڑ لوں گا اور آگ میں گرنے سے بچالوں گا۔نہیں ، بلکہ خدا تعالیٰ نے ہر زمانے میں جیسا کہ اس کی سنت ہے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے وہ راستے دکھائے جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والے ہیں اور پھر جب انسانی استعدادوں نے اپنی بلوغت کو پا لیا جو یقینا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے انسان نے حاصل کیا تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ کو مبعوث فرما کر ہمیں اپنی کامل شریعت کے ذریعہ سے اپنی طرف آنے کے راستے دکھائے تا کہ انسان تباہی اور جہنم میں گرنے سے بچ جائے اور ان راستوں پر گامزن ہو جائے جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والے راستے ہیں اور ان میں سے ایک راستہ رمضان کے روزے ہیں۔یہ رمضان کا جو مہینہ ہے بے شمار برکات لئے ہوئے ہے۔جیسا کہ قرآن شریف سے ہمیں پتہ چلتا ہے۔اور یہ