خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد ہفتم 3 24 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 2009 فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2009ء بمطابق 16 صلح 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ایک مومن جس کو خدا تعالیٰ کی صفات کے بارے میں کچھ نہ کچھ علم ہے اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت کافی ہے۔بعض لوگوں کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک نہیں ہوتا تب بھی ماحول کے زیر اثر بعض الفاظ اور فقرات سن سن کر وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفت گافی بھی ایسی ہی ایک صفت ہے جس کا ذکر ایک مسلمان کسی نہ کسی حوالے سے کرتا رہتا ہے۔بہت سے موقعوں پر جب چاہے ظاہری طور پر ہی سہی اپنی قناعت اور شکر گزاری کا اظہار کرنا ہو تو یہ الفاظ اکثر ہمیں سننے میں ملتے ہیں کہ اللہ کافی ہے یا ہمیں اللہ کافی ہے۔لیکن ایک حقیقی مومن جس کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک ہے وہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی صفت کا اظہار کرتا ہے تو بہر حال اس صفت کی گہرائی کو جانتے ہوئے کرتا ہے۔میں اللہ تعالیٰ کی اس صفت کافی کا ذکر کر رہا تھا۔اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سی آیات میں مختلف سورتوں میں مختلف مضامین اور حوالوں کے تحت فرمایا ہے۔لغات میں بھی اس لفظ کے مختلف معانی لکھے ہیں اور جیسا کہ میں نے طریق رکھا ہوا ہے، بیان کر دیتا ہوں تا کہ اس کے وسیع معانی بھی ہر ایک کے علم میں آجائیں۔تو یہ چند ایک مختصر معانی بیان کرتا ہوں۔گفی۔اس کے معانی ہیں کسی چیز کا کافی ہونا، کسی شے یا کسی ذات پر قناعت کرنا یا تسلی پانا۔اور اگر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے زیادہ کون سی ایسی ہستی ہے جو انسان کے لئے کافی ہے، یا تسلی دینے والی ہے یا جس کے انعاموں پر انسان ہر وقت انحصار کر سکتا ہے۔لین (Lane) جو ایک انگریزی۔عربی ڈکشنری کی کتاب ہے ، لغت ہے اور اس میں بہت ساری لغات کو اکٹھا کیا ہوا ہے یہ معنی میں نے وہاں سے لئے ہیں۔پھر آگے ایک جگہ لکھا ہے۔كَفَانِي فلان الامر - مطلب ہے کہ کسی خاص معاملے میں فلاں شخص پر میں نے اکتفا کیا یا قناعت کی۔یعنی اگر اچھی بات ہے تو اس کے ذریعہ سے حاصل کی اور اگر کوئی بری چیز ہے تو اس کے ذریعہ سے اس برائی سے بچا۔