خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 374 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 374

374 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرمود : 14 اگست 2009 فرماتا ہے کہ برائی اور دنیا داری میں بظاہر زیادہ آسائش اور چمک دمک نظر آنے اور شیطان کے اس کو خوبصورت کر کے دکھانے کے باوجود جب میرا بندہ میری طرف آنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے اور کرے گا تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ میں اس کو پھر آگ کے کنویں میں گرنے دوں۔یقینا پھر میں اس کو آگ کے کنویں میں گرنے سے بچاؤں گا اور جب انسان یہ کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پھر ایک پیار کرنے والی ماں کی طرح دوڑتا ہوا آتا ہے اور اپنے بندے کو ایک بچے کی طرح اپنے سینے سے لگالیتا ہے۔پس اگر کبھی اس تعلق میں کمی آتی ہے جو خدا اور بندے کا ہے تو بندے کی کوتاہی کی وجہ سے کمی آتی ہے۔اس ناخلف بچے کی وجہ سے آتی ہے جو اپنے ماں باپ کو ان کا مقام نہیں دیتا۔ورنہ ماں تو اپنے بچے کی ہر پکار پر بے چین ہو کر اس کی طرف دوڑتی ہے۔پس یہ انسان کا کام ہے کہ نا خلف بچے کی طرح نہ بنے۔اپنے آپ کو ہمیشہ کمزور اور ناتواں سمجھے اور کبھی اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی مدد سے مستغنی نہ سمجھے۔اصل غنی تو خدا تعالیٰ ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے۔تمام جہانوں کا رب ہے لیکن اس کے باوجود بندے کی پکار کی انتظار میں رہتا ہے کہ کب میرا بندہ مجھے پکارے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاؤں۔پس یہ ماحول جو ہمیں ملا ہے جس میں ہم آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ تین دن گزاریں گے اس میں ہر مرد، عورت، جوان اور بوڑھا اپنے جائزے لیتے ہوئے خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگے اور کوشش کرے کہ خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ ایک کوشش کے ساتھ اپنے راستوں پر چلتے رہنے کی توفیق دیتا چلا جائے۔جب تمام دعا ئیں ایک مقصد کے لئے یکجا ہو کر آسمان کو پہنچتی ہیں اور مقصد بھی وہ جس کے حصول کے لئے خود خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو توجہ دلائی ہے تو پھر یقینا یہ دعا ئیں اور کوششیں بارگاہ الہی میں قبولیت کا درجہ پاتی ہیں۔پس جیسا کہ جہد کے معنی میں میں نے بتایا تھا کہ تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ نیکیوں کو اختیار کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں پر نظر رکھتے ہوئے انتہائی کوشش کے ساتھ ان برائیوں کو ترک کرتے ہوئے جب ہم دعا کریں گے تو انشاء اللہ تعالی ، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے بھی ہم دیکھیں گے۔پس ہم میں سے ہر ایک کی یہ کوشش ہونی چاہیئے کہ صرف احمدیت قبول کر لینا ہی ہمارے لئے کافی نہیں بلکہ قرب الہی کے راستوں کی تلاش بھی ہم ہمیشہ جاری رکھیں اور ہمارے پیش نظر ہو۔اللہ تعالیٰ کی سچی محبت اور تڑپ ہمارے عملوں سے نظر آتی ہو۔ہمیشہ ہم اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ہمارا ہر نیک عمل دوسرے نیک عمل کی طرف لے جانے والا ہو۔اگر ہم نیک نیتی سے صدقہ دینے والے ہوں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی نمازوں کی طرف بھی توجہ دینے والے ہوں گے۔روزے کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں گے لوگوں سے ہمدردی کرنے والے بھی ہوں گے۔لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کرنے والے بھی ہوں گے۔اپنے رشتوں کے حق ادا کرنے والے بھی ہوں گے۔بیوی خاوند کے اور خاوند بیوی کے جذبات کا احترام کرنے والا بھی ہوگا۔امانتوں کے حق ادا کرنے والے بھی ہوں گے۔نہ کہ دھوکے سے ایک دوسرے کا مال کھانے والے۔پس ایک نیکی کی کوشش جب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ نیکی پھر آگے بچے دیتی چلی جاتی ہے، جو