خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 349

349 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 پوچھا کہ پہلی دفعہ آئی ہو کیسا لگا جلسہ؟ سنا ہے لجنہ کی مارکی میں شور تھا۔تو اس نے فوراً کہا بالکل نہیں میں مختلف جگہوں پہ جا کے بیٹھتی رہی ہوں اور بڑی توجہ سے تمام عورتوں نے ، بچیوں نے جلسہ سنا ہے اور خاص طور پر میری تقاریر کے دوران بڑی خاموشی رہی ہے۔شور کا تو سوال ہی نہیں بلکہ میں تو اتنی متاثر ہوئی ہوں کہ بیان نہیں کر سکتی۔تو جو اعتراض امریکہ سے آیا تھا اس کا توڑ بھی امریکہ سے آ گیا۔بہر حال عورتیں بھی اور مرد بھی ہمیشہ یاد رکھیں کہ جلسہ کی اصل برکات جلسے کی کارروائی سننے میں ہی ہیں۔جلسہ کے انتظامات میں جو کمزوری رہی، یہ نہیں میں کہتا کہ ان کا ذکر نہیں کرنا چاہئے ان کا ذکر کرنا بھی ضروری ہوتا ہے اور کرنا چاہئے تا کہ آئندہ خیال رہے۔لیکن جو کمزوریاں رہتی ہیں اس میں بھی بعض جگہ میں نے دیکھا ہے مہمانوں کا زیادہ قصور ہوتا ہے۔جرمنی کا جلسہ بھی آرہا ہے جس میں کسی حد تک UK کے جلسے کا رنگ ہوتا ہے پھر دنیا میں باقی جگہ بھی جلسے منعقد ہوتے ہیں تو جب میں ہدایات دیتا ہوں تو باقی دنیا کو بھی اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مجھے اس دوران ایک رپورٹ ملی کہ اسلام آباد میں بعض رہائشی خیموں میں جب لوگ جلسے کے لئے گئے ہوئے تھے تو کچھ چوریاں ہوئی ہیں۔خیموں میں رہنے والے مہمانوں کو خود یہ خیال رکھنا چاہئے تھا کہ قیمتی چیزیں چھوڑ کر نہ جائیں اور اس طرح نہ ہی انتظامیہ کو ابتلاء میں ڈالیں اور نہ اپنے آپ کو۔یہ ان مہمانوں کا قصور ہے جو باوجود بار بار کے اعلان کے کہ قیمتی چیزوں کو امانات کے دفتر میں رکھوائیں۔پھر بھی اپنے خیموں میں چھوڑ کے گئے کھلی جگہ چھوڑ کر جانا ویسے ہی لا پرواہی ہے۔بے شک اگر ہر جگہ اچھا ماحول بھی ہو غالط قسم کے لوگ بھی آجاتے ہیں اور آتے ہیں۔اور جبکہ خیمے بھی کھلی جگہ پر ہوں اور ان کے اندر جانا بھی آسان ہو تو سامنے چیزیں پڑی ہوں تو دعوت دینے والی بات ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ نہ صرف ان کی لاپرواہی ہے بلکہ بے وقوفی ہے جو بے احتیاطی کر کے اپنی قیمتی چیزیں چھوڑ کر چلے گئے۔یا تو ساتھ لے کر جانی چاہئے تھیں یا جیسا کہ میں نے کہا دفتر میں متعلقہ کارکنان کے سپر دکر کے جانی چاہئے تھیں۔لیکن انتظامیہ کو بھی اپنے انتظام بہتر کرنے چاہئیں۔یہ افسر جلسہ سالانہ کا کام ہے کہ متعلقہ شعبہ کی طرف سے خیموں میں بھی بار بار اعلان ہوا اور دوسرے یہ کہ آپ جہاں بھی خیمہ بستیاں بناتے ہیں ، آبادی کرتے ہیں، جہاں ٹینٹ لگاتے ہیں وہاں اس جگہ کو مکمل طور پر فینس (Fence) کرنا چاہئے اور صرف ایک یا دو گیس (Gates) ہوں اور وہاں پر بھی ڈیوٹی پر کارکنان موجود ہوں۔جرمنی میں بھی اس طرح خیمے لگتے ہیں ان کو بھی خیال رکھنا چاہئے۔ان کا جلسہ بھی قریب آ رہا ہے کیونکہ ایک دوسرے سے جیسا کہ میں نے کہا سبق بھی لینا چاہئے اور گیٹوں پہ علاوہ راؤنڈ کے سیکیورٹی کا انتظام بھی ہو۔تو بہر حال یہ ایک زیادہ شکایت تھی جس کا ذکر کرنا ضروری ہے کیونکہ باقی جگہوں پر بھی ہو سکتی ہے۔