خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 348
348 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 پھر پہلے دن خطبہ میں میں نے صفائی کی طرف توجہ دلائی تھی تو مجھے مہمانوں میں سے بعض کے خط آئے کہ آپ نے خطبے میں دروازوں پر پائیدان یا ٹاٹ رکھنے کی طرف توجہ دلائی تھی تا کہ بارش کی وجہ سے جو گندا اور کیچڑ وغیرہ ہے اندر نہ جائے۔جمعہ کے بعد جب میں غسل خانے میں گیا ہوں تو وہ بچھے ہوئے تھے اور پھر جہاں کارکنوں نے غسل خانوں میں صفائی کا خیال رکھا ہے مہمانوں نے بھی میرے کہنے کے مطابق اس پر عمل کیا اور غسلخانوں کو استعمال کرنے کے بعد اکثر نے صاف کرنے کی کوشش کی۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے کہ خلیفہ وقت کی آواز پر احمد یوں کو اطاعت کرنے کی توفیق ملتی ہے اور فوری طور پر عمل کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔پھر جیسا کہ میں نے ذکر کیا سوائن فلو کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔اس کے بچاؤ کے لئے میں نے ہومیو پیتھی دوائی استعمال کرنے کا کہا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پر پوری طرح عمل ہوا۔کارکنان نے جو ہو میو پیتھی کے شعبہ کے متعلقہ کارکنان تھے، انہوں نے اسے مہیا کرنے کی پوری کوشش کی اور روزانہ 15-20 کلو دوائی استعمال ہوتی تھی۔اتنی زیادہ مقدار میں دوائی کو مکس (Mix) کرنا بھی بہت مشکل کام ہے۔مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ وہ صیح طرح مکس (Mix) کرتے رہے اور پھر دیتے رہے کیونکہ لیکوئڈ (Liquid) گولیوں پر ڈال کے پھر دوائی بنائی جاتی ہے یا صرف میٹھی گولیاں ہی کھلاتے رہے۔لیکن بہر حال یہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ ان میٹھی گولیوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے شفا رکھ دی۔تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔لجنہ کی طرف سے ایک دفعہ رپورٹ ملی کہ ایک خاتون نے دوائی کھانے سے انکار کیا، شاید اس لئے انکار کیا ہو کہ اس نے میرا خطبہ نہیں سنا تھا یا ہدایات نہیں سنی تھیں۔تو ڈیوٹی پر مقرر کا رکنہ جو تھی اس نے کہا ٹھیک ہے اگر تم خلیفہ وقت کی بات نہیں مانتی تو تمہاری اپنی ذمہ داری ہے۔اس پر فوراً اس نے ہاتھ بڑھا دیا کہ مجھے دوائی دے دو۔تو یہ نظارے ہیں اطاعت کے جو احمدیوں میں نظر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے یہ بھی چھوٹے چھوٹے انعامات ہیں جو بظاہر چھوٹے لگتے ہیں لیکن بے انتہا انعامات ہیں جن کو ہم گن نہیں سکتے۔اس سال عورتوں کی مارکی میں بھی عمومی رپورٹ یہی ہے کہ عورتوں نے جلسے کی کارروائی بڑی اچھی طرح سنی۔کار کنات کو بہت کم خاموش کروانے کے لئے لکھے ہوئے بورڈ سامنے رکھنے پڑے۔لیکن بہر حال ایک امریکہ سے آئی ہوئی خاتون نے مجھے کہا کہ عورتیں خاموش نہیں تھیں اور جلسہ پوری طرح سنا نہیں گیا۔شاید کہیں ایک آدھ جگہ تھوڑے وقت کے لئے یہ صورت پیدا ہوئی ہو تو ہوئی ہو۔لیکن عمومی طور پر یہی رپورٹ ہے کہ بڑی خاموشی سے سنا گیا اور بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ ان میں اچھائیاں تلاش کرنے کی بجائے کچھ برائیاں تلاش کرنے کی بھی عادت ہوتی ہے۔تو یہ خاتون بھی شاید انہی میں سے تھیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ میری تسلی کروانی تھی اتفاق سے فورا ہی امریکہ کی ایک بچی ، کالج کی سٹوڈنٹ ، جو پہلی دفعہ جلسہ میں شامل ہوئی ہے وہ ملنے کے لئے آ گئی۔اس سے میں نے